اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ از مفتی محمد طیب علیمی

 اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال : اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل: آس محمد گونڈہ

الجواب بعون الملک الوہابــــــــــــــــ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصل یہ ہے کہ سجدہ سہو کے حکم میں ہر نماز برابر ہے چاہے فرض ہو یا نفل۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: و حكم السهو في الفرض والنفل سواء (ج 1 ص 126 کتاب الصلاة الباب الثاني عشر في سجود السهو مطبوعہ مکتبہ زکریا دیوبند)
البتہ بطور خاص جمعہ کی نماز میں یوں ہی عید اور بقرعید کی نماز میں فقہائے کرام نے مصلحتاً یہ فرمایا ہے کہ اگر امام سےسہو واقع ہوجائے اور نمازیوں کی بھیڑ زیادہ ہو، تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ سہو نہ کرے ۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بھیڑ کی وجہ سے لوگ شبہ میں پڑ جائیں اور ان کی نماز خراب ہوجائے مثلا کوئی یہ سمجھ لے کہ یہ سلام نماز سے باہر آنے والا ہے ۔

چناں چہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
السهو في الجمعة و العيدين والمكتوبة والتطوع واحد إلا أن مشائخنا قالوا لا يسجد للسهو في العيدين و الجمعة لئلا يقع الناس في فتنة كذا في المضمرات ناقلا عن المحيط۔(ج 1 ص 128)
علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
والمختار عند المتاخرین ان لا یسجد للسھو فی الجمعة والعيدين لتوهم الزيادة من الجهال،كذا في السراج الوهاج و غيره۔ (ج 2 ص 270 مطبوعہ زکریا بک ڈپو دیوبند)
تاہم اگر کوئی امام جمعہ یا عیدین میں سجدہ سہو کرلیتا ہے تو اس میں گناہ نہیں ہے اس لئے کہ اصل حکم کے مطابق یہ سجدہ جائز ہے ممنوع نہیں۔
جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں: و ليس المراد عدم جوازه بل الأولى تركه كي لا يقع الناس في فتنة.(رد المحتار ج 2 ص 560 مطبوعہ مکتبہ زکریا بک ڈپو دیوبند)
ہاں یہ خیال رہے کہ جمعہ و عیدین میں سجدہ سہو کا ساقط ہونا بھیڑ کیوجہ سے ہے پس جب بھیڑ نہ ہو تو سجدہ سہو ساقط نہیں ہوگا۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں ۔ اذا حضر جمع كثير و إلا فلا داعي إلى الترك (حوالہ سابق)

صدر الشریعہ علامہ امجد علی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: جمعہ و عیدین میں سہو واقع ہوا اور جماعت کثیر ہو تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ سہو نہ کرے ۔ (بہار شریعت ج 4 ص 714 مطبوعہ دعوت اسلامی)

خلاصہ یہ کہ صورت مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ اگر بھیڑ زیادہ ہو تو بہتر ہے کہ سجدہ سہو نہ کیا جائے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔

کتبہ محمد طیب
جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا
1 جمادی الاولی 1443ھ
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا

Leave a Reply

%d bloggers like this: