جمعہ کے دن حضور کی تیاری اور جمعہ کی فضیلت

جمعہ کے دن کی فضیلت

جمعہ کا دن بڑا افضل اور بابرکت دن ہے، اللہ تبارک سے ایسے قومیت کو بھی آزما کر دی ہیں کہ جو عام دنوں میں نہیں نہیں نہ ہونے کی وجہ سے اسے جمعہ کہا جاتا ہے۔ اور سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سید الایام کے لقب سے نوازا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خير يوم طلعت عليہ الشمس يوم الجمعۃ ، فیہ خلق آدم وفيہ ادخل الجنۃ وفيہ اخرج منالجنۃولا تقوم الساعۃ الا في يوم الجمعۃ ۔
ترجمہ: سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے ،اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا ،اسی دن جنت سے نکال کر دنیا میں بھیجے گئے اور قیامت بھی اسی دن قائم ہوگی۔
صحیح مسلم حصہ دوم صفحہ ۵۸۵
یہ مسلمانوں کے لئے عبادت کا دن ہے اور ان کے اکٹھا ہونے کا دن ہے۔ اس دن نماز جمعہ کی ادائیگی فرض ہے۔ قرآن مقدس میں اس نماز کی سخت تاکید آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے
يا ايھاا الذين امنوا اذا نودي للصلاۃ من يوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر الله وذروا البيع ذلکم خير لکم ان كنتم تعلمو ن
ترجمہ : اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو ۔یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ سورہ جمعہ آیت۹
اس دن کا نام عربی زبان میںعروبہ تھا ، جس شخص نے اس کا نام جمعہ رکھا وہ کعب بن لوی تھا ،پہلا جمعہ جو نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کے ساتھ اس وقت پڑھا جب آپ ہجرت کرکے مدینی طیبہ تشریف لاے ۔تو بارہویں ربیع الاول روز دوشنبہ کوچاشت کے وقت مقام قبا میں اقامت فرمائ ،دو شنبہ،سہ شنبہ ،چہار شنبہ اور پنج شنبہ یہاں قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی۔ جمعہ کے دن مدینہ طیبہ کا عزم فرمایا ،بنی سالم بن عوف کےبطن وادی میں جمعہ کا وقت آیا تو اسی جگہ کو لوگوں نے مسجد بنایا ۔سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا جمعہ پڑھایا اور خطبہ ارشاد فرمایا۔

حضور کا اہتما م

حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن غسل فرماتے ،کپڑےتبدیل فرماتے ،جسم کے زائد بالوں کی تراش خراش کرتے ،ناخون تراشتے ،خوشبو لگاتے، ہر لحاظ سے اپنے جسم اطہر کو درست فرماتے اور نماز جمعہ کا اہتمام فرماتے۔ آپ کے اتباع میں جمعہ کے دن غسل کرناناخن تراشنا، خوشبو لگانا اور گھر سے وضو کر کے مسجد میں جانا مسنون ہے ۔

نماز کی تیار ی

حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لا يغتسل رجل يوم الجمعۃ ويتطہر ما استطاع من طہر ويدہن من دہنہ او يمس من طيب بيتہ ثم يخرج فلا يفرق بين اثنين ثم يصلي ما كکتب لہ ثم ينصت اذا تکلم الامام الا غفر لہ ما بينہ وبين الجمعۃ الاخرۃ
جب کوئی شخص جمعہ کے دن غسل کر کے پاکی حاصل کرتا ہے ، تیل یا خوشبو لگاتا ہے پھر نماز کے لئے نکلتا ہے اور دو نمازیوں کے درمیان گھسنے کی کوشش نہیں کرتا ،پھر فرض نماز ادا کرتا ہے اور جب امام خطبہ دے تو خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان جو اس نے گناہ کیے ہیں وہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

صحیح بخاری حصہ دوم صفحہ ۳

میرے پیارے اسلامی بھائیو نماز جمعہ کے لئے وقت سے پہلے تیاری کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے لہذا جمعہ سے پہلے سفید لباس دھو کرپریس کرلیں ،حجامت بنوانے کی ضرورت ہو تو بنوا لیں ،ناخنتراش لیں، صاف ستھرا لباس پہن لیں، خوشبو لگائیں ،تیل لگائیں اور پاکیزگی کے لیے ہر وہ کام کریں جو نماز میں شامل ہونے کے لئے مسنون اور ضروری ہیں۔

غسل اور مسواک

        حضرت عبید بن سباق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے خطبے میں ارشاد فرمایا اے مسلمانو اللہ تعالی نے اس جمعہ کے دن کو عیدمقرر کیا ہے۔ اس دن غسل کرو اور اگر کسی کے پاس خوشبو ہو تو اس کے لگانے میں کوئی ضرر نہیں لیکن تم پر مسواک کرنا لازم ہے ۔مشکاۃ المصابیح حصہ اول صفحہ ۴۴۰
لہذا اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے کیونکہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ضرور غسل فرمایا کرتے تھے ۔چونکہ جمعہ کے دن اللہ تبارک و تعالی کے حضور خصوصی حاضری ہوتی ہے۔ اس لیے اس دن اپنا بدن میل کچیل سے پاک کرنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے ۔ پھر اس دن مسلمانوں کا بہت بڑا مجمع اکٹھا ہوتا ہے اس لیے بھی اس مجمع میں غسل کر کے جانا چاھیے کہ کہیں بدن سے اٹھنے والی بوسے تکلیف نہ پہنچائے۔
مسواک کی حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر حال میں تاکید فرمائی ہے لیکن جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے جانے سے پہلے خاص طور پر مسواک کرنا چاہیے۔

نیت پر اجر و ثواب

       حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: نماز جمعہ میں تین قسم کے لوگ آتے ہیں پہلے وہ جو بے کار کاموں کے لیے آیا ہے اس کو اس کے مطابق حصہ ملے گا ۔دوسرا وہ جو دعا کے لیے آیا ہے اگر اس نے اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں دعا کی تو اللہ تعالی اگر چاہے تو اس کی دعا قبول کرلے گا اور اگر چاہے تو نہ کرے گا ۔تیسرا وہ جوجمعہ کی نماز کے لئے آتا ہے اور خاموشی سے بیٹھ جاتا ہے نہ تو کسی کی گردن پھلانگتا ہے اور نہ ہی کسی کو تکلیف دیتا ہے، اس کے لئے اگلے جمعہ تک اور اس کے علاوہ تین دنوں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ ایک نیکی کرے اس کے لئے دس گنا اجر ہے۔
سنن ابو داؤد حصہ اول صفحہ ۲۹۱
میرے پیارے اسلامی بھائیو اس سے پتہ چلا کہ جمعہ کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ ہم خالص رضائے الہی کی نیت سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہو ںاور نماز جمعہ ادا کریں ۔اس زمانے میں جمعہ کو لغو اور بیکار سمجھنے والے بہت زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں، ایسے لوگ عین خطبہ کے وقت بلکہ بعض تو بالکل جماعت کے وقت مسجد میں پہنچتے ہیں، مجبورا دو رکعت ادا کرتے ہیں اور بڑی تیزی سے مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں۔ جلد بازی میں بارہا لوگوں کو تکلیف دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ایسے لوگ جمعہ کے اجروثواب کے بالکل مستحق نہیں ہیں۔
اس روایت میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ جمعہ کی نماز کے ساتھ پڑھی جائے تو دس دن کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں نماز جمعہ کے آداب کی رعایت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے،کسی کو اٹھایا نہ جائے۔
حضرت نافع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا: کہ کوئی شخص کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھے حضرت نافع سے پوچھا گیا صرف جمعہ کے لئے ہے تو انہوں نے کہا نماز جمعہ میں بھی اور اس کے علاوہ بھی ۔ صحیح مسلم حصہ دوم صفحہ نمبر 8
میرے پیارے اسلامی بھائیو اگر کوئی شخص کسی جگہ پر پہلے سے بیٹھا ہے تو بعد میں آنے والا شخص اسے وہاں سے اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھے یہ اخلاقی اقدار کے بالکل منافی ہے۔ اس لئے اسلام میں اس کی بلکل گنجایش نہیں رکھی گئی ہے، پھر مسجد تو اللہ کا گھر ہے اس میں تو یہ کامکرنا کسی طرح صحیح نہیں ۔ جسے جمعہ وغیرہ میں اپنی خواہش کے مطابق جگہ چاہیے اسے سب سے پہلے آ کر اس جگہ پر بیٹھ جانا چاہئے اور اگرتاخیر سے آتا ہے تو اسے جو بھی جگہ میسر آئے وہیں بیٹھے کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھنے کی کسی صورت میں اسلام اجازت نہیں دیتا۔

پیش کش :مولانا اظہر علیمی


جھوٹی گواہی شریعت کی نظر میں

Leave a Reply