جھوٹی گواہی شریعت کی نظر میں

جھوٹی گواہی شریعت کی نظر میں

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

حضور مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی صاحب آپ کی بارگاہ میں ایک مسئلہ عرض ہے کہ ۔

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک حاجی صاحب روزہ رکھ کر کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دیں, ان کے بارے میں شرعی کیا حکم ھے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل جواب عنایت فرمائیں-

سائل محمد حشمت وقار راجوری کشمیر


الجواب:

جھوٹی گواہی بہت بڑا گناہ ہے۔ یہاں ہم میں مستند حوالوں کے ساتھ بہارِ شریعت میں مذکور بعض حدیثیں ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

(١) امام ترمذی نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی کہ حضور ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا کہ نہ خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی گواہی جائز اور نہ اُس مرد کی جس پر حد لگائی گئی اور نہ ایسی عورت کی اور نہ اُس کی جس کو اُس سے عداوت ہے جس کے خلاف گواہی دیتا ہے اور نہ اُس کی جس کی جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو چکا ہو اور نہ اُس کے موافق جس کا یہ تابع ہے (یعنی اس کا کھانا پینا جس کے ساتھ ہو) اورنہ اُس کی جو وِلا یا قرابت میں متہم ہو۔

(بہارِ شریعت ح ١٢ ص٩٣۵ )

(٢) صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :’’کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ(عزوجل) کے ساتھ شریک کرنا۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ کسی کو ناحق قتل کرنا۔ اور جھوٹی گواہی دینا”.(ایضا)

(٣) ابو داودو ابن ماجہ نے خریم بن فاتک اور امام احمد و ترمذی نے ایمن بن خریم رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز صبح پڑھ کر قیام کیا اور یہ فرمایا کہ جھوٹی گواہی شرک کے ساتھ برابر کر دی گئی پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی:

{ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ- } ’’بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو اللہ(عزوجل) کے لیے باطل سے حق کی طرف مائل ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو” (ایضا)

(۴) ابن ماجہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالٰی اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا”

(بہارِ شریعت ٩٣٦)

اب یہ جھوٹی گواہی دینے والےحاجی صاحب ہوں یا کوئی دوسرا، شریعت کا حکم سب کے لیے یکساں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ بعض لوگوں کی جھوٹی گواہی کو اپنی کم فہمی سے ہلکا سمجھتے ہیں۔ہاں! روزہ کی حالت میں جھوٹی گواہی کی شناعت اور خرابی اور بڑھ جاتی یے۔اس لیے حدیث میں روزہ کی حالت میں جھوٹ سے اجتناب کی مزید تاکید وارد ہے اور اس سے نہ بچنے پر روزہ جیسے بے ریا نیک عمل کے نامقبول ہونے کی وعید آئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

"من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجة ان یدع طعامہ وشرابہ” (ترجمہ: جو بُری بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے ،تو اﷲ تعالیٰ کو اس کی کچھ حاجت نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب من لم یدع قول الزور۔۔۔)

اور حالت روزہ میں جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی کی برائی اور شناعت بڑھنے کی نظیر یہ ہے کہ عورتوں پر بدنگاہی ہر جگہ حرام ہے، لیکن حالتِ احرام میں، اور حرمِ محترم میں اگر کوئی بدنگاہی کا جرم کرے تو یہ اور بُرا ہے۔ امامِ اہلِ سنت، اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز بیانِ حج میں تنبیہ ضروری اشد ضروری کا عنوان قائم کرکے تحریرفرماتے ہیں:

"بدنگاہی ہمیشہ حرام ہے، نہ کہ احرام میں، نہ کہ موقف میں، یا مسجد الحرام میں، نہ کہ کعبہ معظمہ کے سامنے ، نہ کہ طوافِ بیت الحرام میں۔ یہ تمھارے بہت امتحان کا موقع ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ یہاں منہ نہ چھپاؤ ۔اور تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کی طرف نگاہ نہ کرو، یقین جانو کہ یہ بڑے عزت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں اور اس وقت تم اور وہ سب خاص دربار میں حاضر ہو، بلاتشبیہ شیر کا بچہ اس کی بغل میں ہو اس وقت کون اس کی طرف نگاہ اٹھا سکتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ واحد قہار کی کنیزیں، کہ اس کے خاص دربار میں حاضر ہیں، ان پر بد نگاہی کس قدر سخت ہوگی وَ لِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی”

(فتاوی رضویہ ج ۴ ص٧٠٩)

بہر حال جھوٹی گواہی بہت بڑا گناہ ہے اور روزہ کی حالت میں جھوٹی گواہی کی شناعت اور بڑھ جاتی ہے۔ایسے شخص پر توبہ اور گواہی کے جھوٹ کا اظہار ضروری ہے۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔

٢٦/شوال المکرم ١۴۴٢ھ//٨/جون ٢٠٢١ء


حروف کا صحیح تلفظ نہ کرنے والے کی امامت کا حکم

رحمت اورشفاعت پربھروسہ کرکے گناہ کرناکیسا؟

1 thought on “جھوٹی گواہی شریعت کی نظر میں”

Leave a Reply

%d bloggers like this: