انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی

انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟

سوال : کیا کسی مجبوری میں انسان کا گوشت کھانا جائز ہے؟ اور بکرے کے گوشت کو پوست کے ساتھ کھانا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آدمی کا گوشت کھانا سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔ آدمی اپنا گوشت نہ کھا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو کھلا سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ فقہاء کرام

نے لکھا ہے کہ کسی آدمی کی بھوک کی وجہ سے جان جا رہی ہو اور وہ جانتا ہے کہ اپنے بدن سے ہم نے ایک یا دو بوٹی کھا لی تو ہماری جان بچ

جائے گی تو بھی شریعت کا یہی حکم ہے کہ خود اپنی جان بچانے کے لیے بھی ایسے مجبور اور بھوکے آدمی کو اپنے بدن سے گوشت کاٹ کر

کھانے کی اجازت نہیں ۔ جب جان بچانے کے لیے سخت مجبوری اور بھوک کے عالم میں اپنے بدن سے گوشت کھانے کی اجازت نہیں تو پھر دوسرے

کے بدن کے گوشت کو کھانا کیسے جائز ہوگا یہ سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔

رہ گیا مسئلہ بکرے کی کھال کھانے کا تو عام طور سے لوگ صرف گوشت کھاتے ہیں،اگر کسی آدمی کی خواہش یہی ہے کہ وہ اس کی کھال بھی

کھائے تو اس کو بھون کر کھا سکتا ہے لیکن یہ سلیم طبیعتوں کے خلاف ہے ۔

واللہ تعالی اعلم ۔

کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Leave a Reply

%d bloggers like this: