حضورتاجدارختم نبوتﷺسے دشمنی ایمان سے محرومی کاسبب ہے

حضورتاجدارختم نبوتﷺسے دشمنی ایمان سے محرومی کاسبب ہے

{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآ ء ٌ عَلَیْہِمْ ء َاَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ}(۶)خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ وَعَلٰٓی اَبْصٰرِہِمْ غِشٰوَۃٌ وَّلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۷)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے، انہیں برابر ہے چاہے تم انہیں ڈراؤیا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں،اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ۔

ترجمہ ضیاء الایمان :بے شک وہ لوگ جن کی قسمت میں کفرہے ان کے لئے برابرہے کہ آپ (ﷺ)ان کو ڈرسنائیں یانہ ڈرسنائیں ، یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر اورکانوں پر مہرلگادی ہے اوران کی آنکھوں پر پردہ پڑاہواہے اوران کے لئے بہت بڑاعذاب ہے ۔

حضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہ کاقول

وقال الضحّاک:نزلت فی أبی جہل وخمسۃ من أہل بیتہ۔
ترجمہ:امام احمدبن محمدبن ابراہیم الثعلبی المتوفی : ۴۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیںکہ حضرت سیدناضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ یہ آیت مبارکہ ابوجہل اوراس کے گھرکے پانچ افراد کے متعلق نازل ہوئی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔
(الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أحمد بن محمد بن إبراہیم الثعلبی، أبو إسحاق(۱:۱۴۹)

رسول اللہ ﷺکے مقابلے میں آنے والے بدبخت

نزلت فی الذین فتُلوا یوم بدر۔
ترجمہ:حضرت سیدناامام محمود بن حمزہ بن نصرالکرمانی المتوفی : ۵۰۵) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ یہ آیت مبارکہ ان کے متعلق نازل ہوئی جو بدرمیں قتل کئے گئے ۔
(غرائب التفسیر وعجائب التأویل:محمود بن حمزۃ بن نصرالکرمانی، ویعرف بتاج القراء (۱:۱۱۷)
اس شان نزول کو دیکھاجائے تو بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺکی دشمنی میں اتنابڑھ جائے وہ رسول اللہ ﷺکے مقابلے میں آجائے تواللہ تعالی ایسے شخص کو ایمان سے محروم کردیتاہے ۔یہ بھی بہت بڑی گستاخی ہے کہ کوئی شخص تلوار لے کر رسول اللہ ﷺکے مقابلے میں آجائے ۔ 

اس آیت کے شان نزول کے متعلق تیسراقول
وکان ابن عباس یری أنَّ ہذہ الآیۃ نزلتْ فی الیہود الذین کانوا بنَواحی المدینۃِ علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، توبیخًا لہم فی جُحودہم نبوَّۃَ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وتکذیبِہم بہ، مع علمہم بہ ومعرفتِہم بأنّہ رسولُ اللہ إلیہم وإلی الناس کافّۃ.
ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ مدینہ منورہ کے قرب وجوار میں رہنے والے یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ،اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے ان کو زجروتوبیخ فرمائی کیونکہ انہوں نے باوجود علم ومعرفت کہ رسول اللہ ﷺکی نبوت کاانکارکیااوررسول اللہ ﷺکی گستاخی کرتے ہوئے آپ ﷺکی تکذیب کی حالانکہ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺاللہ تعالی کے رسول ہیں اوران کی طرف اورساری کائنات کے لوگوں کی طرف رسول بناکربھیجے گئے ہیں۔
(جامع البیان فی تأویل القرآن: محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۱:۲۵۱)

امام الکرمانی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں

نزلت فی قوم من أحبار الیہود کتموا نعتہ وصفتہ حسدا وعنادا۔
ترجمہ :حضرت سیدناامام محمود بن حمزہ بن نصرالکرمانی المتوفی : ۵۰۵) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ یہ آیت مبارکہ یہودیوں کے علماء کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺکی ان صفات کریمہ کو چھپاتے تھے جو تورات میں ذکرہوئی تھیں اوراس کاسبب بھی رسول اللہ ﷺکی ذات گرامی کے ساتھ حسد اوردشمنی تھی۔
(غرائب التفسیر وعجائب التأویل:محمود بن حمزۃ بن نصرالکرمانی، ویعرف بتاج القراء (۱:۱۱۷)
اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ دشمنی اوررسول اللہ ﷺکے ساتھ حسد کرنے والے کوایمان نصیب نہیں ہوتا،اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہرلگادیتاہے کہ یہ لوگ حق بات سمجھ ہی نہ سکیں اوراللہ تعالی ان کے کانوں پر مہرلگادیتاہے کہ حق کو نہ سن سکیں اوراسی طرح آنکھوں پر بھی مہرلگادیتاہے تاکہ یہ بدبخت حق دیکھ بھی نہ سکیں۔

دلوں پرمہرلگانے کامطلب؟

وقال ابن عباس طبع اللہ علی قلوبہم فلا یعقلون الخیر یعنی أن اللہ طبع علیہا فجعلہا بحیث لا یخرج منہا ما فیہا من الکفر ولا یدخلہا ما لیس فیہا من الإیمان۔
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دلوں پر مہر لگا کر ان کو اس طرح کا بنادیا کہ ان میں جو کفر گھسا ہوا ہے وہ نکل نہیں سکتا اور جو ایمان ان میں نہیں ہے وہ ان میں داخل نہیں ہوسکتا۔
(مدارک التنزیل وحقائق التأویل:أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی (ا:۴۵)
اس سے ثابت ہواکہ مہر کا مقصد اہل حق کے نزدیک یہ ہے کہ دل میں ظلمت اور تنگی پیدا ہوجاتی ہے ،جب تک وہ ظلمت اس کے دل میں رہتی ہے۔ وہ ایمان نہیں لاتا۔

معارف ومسائل

(۱)جو شخص رسول اللہ ﷺکادشمن بن جائے اسے نصیحت نفع نہیں دیتی ۔
(۲)گستاخ شخص کو چاہے قرآن کریم بھی پڑھ کرسنائیں تو اس کو نفع نہیں ہوتا۔
(۳)ان کے دلوں پر مہرلگادی جاتی ہے تاکہ حق سمجھ نہ سکیں ۔
(۴) ایسے لوگوں کے کانوں پر بھی مہر لگادی جاتی ہے تاکہ حق سن نہ سکیں۔
(۵) گستاخوں اوربے دینوں کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے جاتے ہیں تاکہ یہ حق دیکھ بھی نہ سکیں ،یہی وجہ ہے کفارنے بڑے بڑے معجزات دیکھ کربھی ایمان قبول نہ کیا۔
(۶)اورایسے لوگوں کے لئے بہت بڑاعذاب ہے ۔
(۷) جس طرح یہود ونصاری نے رسول اللہ ﷺکے اوصاف کو چھپایااسی طرح آج کے بعض نام نہاد علماء بھی دین کو چھپائے ہوئے ہیں ۔جس طرح جہاد اوررسول اللہ ﷺکے غزوات کاذکر تک نہیں کرتے اوررسول اللہ ﷺکی ناموس کامسئلہ بھی ان کی مساجد میں بیان نہیں ہوتاایسے لوگ بھی یہودونصاری کے پیروکارہیں۔
(۸) جس طرح مکہ مکرمہ کے کفار رسول اللہ ﷺکے مقابلے کے لئے بدرآگئے تھے اگروہ ذلیل ہیں تو آج جتنے نام نہاد مسلمان رسول اللہ ﷺکے دین کو مٹانے پر لگے ہوئے ہیں یہ بھی انہیں کے پیروکارہیںاوراسی طرح اگرفیض آباد ختم نبوت پر پہرہ دینے والے حضورامیرالمجاہدین حضرت علامہ مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی یمامہ میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جانشین ہیں تو ان کے مقابلے میں آنے والے اوران پرگولیاں چلانے والے اوران پر گولیاں چلانے کاحکم دینے والے سب کے سب ختم نبوت کے دشمنوں کے جانشین ہیں۔
(۹) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ ان کے دلوں پر پہلے مہرنہ تھی بلکہ ان کی رسول اللہ ﷺکے ساتھ عناد اوردشمنی کی وجہ سے لگائی گئی ۔
(۱۰)اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب کوئی منکراپنے انکار میں حدسے بھی گزرجاتاہے تو اللہ تعالی اس کے اندرایمان قبول کرنے کی صلاحیت ختم کردیتاہے۔
(۱۱) یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ آیت ہر کافرکے تعلق سے نہیں ہے کیونکہ منکرین توایمان لاتے رہتے ہیں ان کو سمجھانامفیدبھی ہوتارہتاہے ، یہ بات ان کفارکے متعلق ہے جو انکارکی آخری حدتک پہنچ جاتے ہیں۔

عذاب کامطلب ؟

وَلَہُمْ عَذابٌ عَظِیمٌ، أَیْ:فِی الْآخِرَۃِ، وَقِیلَ:الْقَتْلُ وَالْأَسْرُ فِی الدُّنْیَا وَالْعَذَابُ الدَّائِمُ فِی الْعُقْبَی، والعذاب:کل ما یعیی الْإِنْسَانَ وَیَشُقُّ عَلَیْہِ، قَالَ الْخَلِیلُ (بن أحمد)الْعَذَابُ مَا یَمْنَعُ الْإِنْسَانَ عَنْ مُرَادِہِ، وَمِنْہُ الْمَاء ُ الْعَذْبُ لِأَنَّہُ یَمْنَعُ الْعَطَشَ۔
ترجمہ :امام محی السنہ ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی الشافعی المتوفی : ۵۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یعنی آخرت میں ان کے لئے بہت بڑاعذاب ہے اوریہ بھی کہاگیاہے کہ دنیامیں قتل کرنااورقید کرنااورآخرت میں دائمی عذاب ۔ اورعذاب ہر وہ چیز ہے جو انسان کو مشقت میں ڈال دے ۔ امام خلیل بن احمدرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ عذاب ہر اس چیز کانام ہے جو انسان کی مراد کے حصول میں رکاوٹ ہواوراسی سے ماء العذب ہے یعنی ٹھنڈاپانی کیونکہ وہ بھی پیاس کو منع کردیتاہے یعنی ختم کردیتاہے۔
(تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۱:۸۵)

فرشتے اہل ایمان اور کفارکے دلوں کے احوال جانتے ہیں

عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَہُوَ اخْتِیَارُ أَبِی عَلِیٍّ الْجُبَّائِیِّ وَالْقَاضِی أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِکَ عَلَامَۃٌ وَسِمَۃٌ یَجْعَلُہَا فِی قَلْبِ الْکُفَّارِ وَسَمْعِہِمْ فَتَسْتَدِلُّ الْمَلَائِکَۃُ بِذَلِکَ عَلَی أَنَّہُمْ کُفَّارٌ، وَعَلَی أَنَّہُمْ لَا یُؤْمِنُونَ أَبَدًا فَلَا یَبْعُدُ أَنْ یَکُونَ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ عَلَامَۃٌ تَعْرِفُ الْمَلَائِکَۃُ بِہَا کَوْنَہُمْ مُؤْمِنِینَ عِنْدَ اللَّہِ کَمَا قَالَ:أُولئِکَ کَتَبَ فِی قُلُوبِہِمُ الْإِیمانَ (الْمُجَادَلَۃِ:۲۲)وَحِینَئِذٍ الْمَلَائِکَۃُ یُحِبُّونَہُ وَیَسْتَغْفِرُونَ لَہُ، وَیَکُونُ لِقُلُوبِ الْکُفَّارِ عَلَامَۃٌ تَعْرِفُ الْمَلَائِکَۃُ بِہَا کَوْنَہُمْ مَلْعُونِینَ عِنْدَ اللَّہِ فَیُبْغِضُونَہُ وَیَلْعَنُونَہُ۔
ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ اس مہرسے مراد ایسی علامت ونشانی ہے جوکافروں کے دلوں اوران کے کانو ں پر لگائی جاتی ہے تاکہ فرشتے محسوس کرلیں کہ یہ کافرہیں اوریہ ہمیشہ ہمیشہ ایمان نہیں لائیں گے اوریہ بھی کوئی بعید نہیں ہے کہ اہل ایمان کے دل میں بھی ایسی علامت ہوجن کے ذریعے فرشتے جانتے ہوں کہ اللہ تعالی کے ہاں یہ لوگ مومن ہیں ۔ جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمٰنَ} ترجمہ :یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا ۔سورۃ المجادلہ : ۲۲)
توپھرملائکہ کرام ان سے محبت کرتے ہوئے ان کے لئے استغفارکرتے ہیں جبکہ علامتِ قلوب کفارسے اللہ تعالی کے ہاں ان کالعنتی ہوناجان کر ان سے نفرت کرتے ہیں اوران پرلعنت کرتے ہیں۔
(التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲:۲۹۱)

رسول اللہ ﷺکے دشمنوں کے دلوں پر مہرلگانے کافائدہ؟

وَالْفَائِدَۃُ فِی تِلْکَ الْعَلَامَۃِ إِمَّا مَصْلَحَۃٌ عَائِدَۃٌ إِلَی الْمَلَائِکَۃِ، لأنہم متی علموا بتلک العلامۃ کونہ کفاراً مَلْعُونًا عِنْدَ اللَّہِ تَعَالَی صَارَ ذَلِکَ مُنَفِّرًا لَہُمْ عَنِ الْکُفْرِ أَوْ إِلَی الْمُکَلَّفِ، فَإِنَّہُ إِذَا عَلِمَ أَنَّہُ مَتَی آمَنَ فَقَدْ أَحَبَّہُ أہل السموات صَارَ ذَلِکَ مُرَغِّبًا لَہُ فِی الْإِیمَانِ وَإِذَا عَلِمَ أَنَّہُ مَتَی أَقْدَمَ عَلَی الْکُفْرِ عَرَفَ الْمَلَائِکَۃُ مِنْہُ ذَلِکَ فَیُبْغِضُونَہُ وَیَلْعَنُونَہُ صَارَ ذَلِکَ زَاجِرًا لَہُ عَنِ الْکُفْرِ. 

ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن عمرالرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس علامت کافائدہ توملائکہ کرام علیہم السلام کے لئے ہے کہ جب وہ اس کے ذریعے ان کااللہ تعالی کے ہاں کافراورملعون ہوناجان لیتے ہیں توان سے کفرکی وجہ سے نفرت کرتے ہیں یامکلفین کو فائدہ ہوتاہے جب انہیں علم ہوگاکہ ایمان لانے کی وجہ سے ان سے تمام اہل سماء محبت کریں گے توانہیں ایمان لانے کاشوق پیداہوگااوراگرکفرکیاتوملائکہ کرام علیہم السلام اسے جان کر ان سے نفرت اوران پر لعنت کریں گے تویہ کفرپرزجروتوبیخ بن جائے گا۔
(التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲:۲۹۱)

Leave a Reply