وسیم رضوی مرتد نے اپنی کتاب میں حضور ﷺ کو حریص لکھا ۔ معاذاللہ

وسیم رضوی مرتد نے اپنی کتاب میں حضور ﷺ کو حریص لکھا ۔ معاذاللہ

سوال : وسیم رضوی (عرف جیتندر ناراٸن سنگھ تیاگی) نے اپنے غلیظ کتاب میں رسول اقدس ﷺ کی شان میں تو ہین کرتے ہوے حضور ﷺ کو معاذ اللہ حریص تک لکھ دیا، اس پر آپ کچھ تحریر کریں۔

الجوابـــــــــــــــــــــــــ

وسیم رضوی عرف جیتندر ناراٸن سنگھ تیاگی اس زمانے کا سب سے بڑا دہشت گرد، فسادی اور آتنک وادی ہے جس نے اپنی ذلیل کتاب اور رذیل حرکت سے رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے چاند پر تھوکنے کی کوشش کی ہے اور اپنی بدنام زمانہ کتاب کے ذریعے حضور اقدس ﷺ کو حریص یعنی معاذ اللہ لالچی ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے مگر یہ بات سب پر ظاہر ہے کہ یہ اس دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، یہ لعین مردود اس ذات عظیم کو حریص کہہ رہا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کا مالک اور دونوں جہاں کا مختار بنا کر اس خاکدان گیتی پر مبعوث فرمایا ہے۔

خالقِ کل نے آپ کو مالک کل بنادیا
دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں

ایک مرتبہ حضرت جبرٸیل علیہ السلام حضور اقدس ﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوۓ اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں پہاڑ سونے کے بنا دوں جو آپ کے ساتھ ساتھ رہے، حضور اقدس ﷺ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ جبرٸیل! یہ دنیا تو اس کا گھر ہے جس کا کوٸی گھر نہ ہو، یہ اس کی دولت ہے جس کے پاس کوٸی دولت نہ ہو، اور اسے وہی جمع کرتا ہے جو بے وقوف ہو (مکاشفة القلوب ص٢٤٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
لَوْ کَانَ لِيْ مِثْلُ أُحُدٍ ذَھَبًا؛ مَا یَسُرُّنِيْ أَنْ لاَّ تَمُرَّ عَلَيَّ ثَـلَاثَ لَیَالٍ وَعِنْدِيْ مِنْهُ‎ شَيْئٌ " یعنی اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں یہ چاہوں گا کہ میرے اوپر تین راتیں اس حال میں نہ گزریں کہ میرے پاس اس سونے میں سے کوٸی چیز بھی بچی پڑی ہو ۔

(بخاری شریف حدیث نمبر ٢٣٨٩)
حضور حجة الاسلام علامہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ حرص و لالچ کی مذمت میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ ایک بدوی نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کی مجھے ایک مختصر نصیحت کیجٸے! آپ ﷺ نے فرمایا: ہر نماز کو زندگی کی آخری نماز سمجھ کر پڑھ! کوٸی ایسی بات نہ کر جس پر کل معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے مال سے امید نہ رکھ (مکاشفة القلوب ص٢٤٣)

مذکورہ عبارتوں سے یہ بات آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہے کہ حضور اقدس ﷺ کو حریص کہنا حماقت، جہالت اور غایت درجہ شرارت ہے۔

اللہ تعالیٰ ان جاہلوں سے امت مسلمہ کی حفاظت فرماۓ، آمین۔

کتبــــــــہ : مفتی محمد محفوظ عالم رضوی 

Leave a Reply

%d bloggers like this: