حلال جانوروں کا گوشت کھانا کب جائز ہوگا؟ کیااس کے لیے کچھ شرطیں ہیں ؟

حلال جانوروں کا گوشت کھانا کب جائز ہوگا؟ کیااس کے لیے کچھ شرطیں ہیں ؟


جواب:

حلال جانوروں کا کھانا اس وقت جائز ہوگا جب شرعی طریقہ پر ان کو ذبح کرلیا جائے، شکار اور قابو میں نہ آنے والے جانور جیسے ہرن، نیل گائے وغیرہ "ذبحِ اضطراری” سے بھی حلال ہوجاتے ہیں۔ اور قابو والے جانور جیسے گائے بکری وغیرہ "ذبحِ اختیاری” سے حلال ہوتے ہیں۔

ذبح شرعی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ:

(١): ذبح کرنے والا مسلمان یا کتابی اور عاقل ہو۔مشرک اور مرتد یا پاگل اور ناسمجھ بچے کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔

(٢) :”ذبحِ اختیاری” میں یہ بھی ضروری ہے کہ گلے کی چاروں رگوں میں سے کم از کم تین رگیں ضرور کٹ جائیں

(٣): یہ بھی ضروری ہے کہ ذبح کے وقت قصداً اللہ کا نام زبان سے ذکر کرنا نہ چھوڑے، ہاں! بھول سے چھوٹ جائے تو جانور حلال ہے۔

(۴): یہ بھی ضروری ہے کہ ذبح کے وقت جانور زندہ ہو۔

(۵): اگر جانور شکار ہو تو یہ بھی ضروری ہے کہ ذبح کرنا حرم میں نہ ہو۔ یوں ہی جانور کےشکار ہونے کی صورت میں ذبح کرنے والاحالتِ احرام میں نہ ہو، احرام والا حرم سے باہر بھی ذبح نہیں کرسکتا۔

(ایسا ہی متعدد کتب فقہ میں ہے)

(نوٹ: ذبح شرعی سے متعلق تفصیلی معلومات "ذبح کے بیان” والی آئندہ قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔)

محمد نظام الدین قادری۔

خادم درس وافتاء: دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔)


جانوروں کا گوشت کھانا حلال اور بعض کا حرام ہے تو اس میں کیا حکمت ہے؟

 کیا کچھ ایسے ضابطے ہیں جن سے حرام جانوروں کی تفصیل معلوم ہو سکے

1 thought on “حلال جانوروں کا گوشت کھانا کب جائز ہوگا؟ کیااس کے لیے کچھ شرطیں ہیں ؟”

Leave a Reply

%d bloggers like this: