شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہے خواہ سوتے میں نکلے یا بیداری میں

شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہے خواہ سوتے میں نکلے یا بیداری میں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سونے کی حالت میں احتلام ہونے والا تھا کہ وہ اٹھ گیا تب ہوا لیکن نہ اس کے کپڑے پر لگا اور نہ ہی اسکے بدن کے کسی حصے پر پر لگا تو کیا وہ شخص پاک ہے یا ناپاک حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی:حافظ عبدالمالک یاقوت گنج فرخ آباد یوپی

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب :

سوتے یا جاگتے میں شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے غسل فرض ہوجاتا ہے۔ وجوب غسل کیلئے منی کے بدن یا کپڑے میں لگنے کا کچھ دخل نہیں لہذا وہ شخص ناپاک ہوگیا اس پر غسل فرض ہے۔

ہدایہ میں ہے”ﻭاﻟﻤﻌﺎﻧﻲ اﻟﻤﻮﺟﺒﺔ ﻟﻠﻐﺴﻞ ﺇﻧﺰاﻝ اﻟﻤﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ اﻟﺪﻓﻖ ﻭاﻟﺸﻬﻮﺓ ﻣﻦ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ ﺣﺎﻟﺔ اﻟﻨﻮﻡ ﻭاﻟﻴﻘﻈﺔ”(ہدایہ،ج1،ص19)۔

ہندیہ میں ہے "ﺇﺫا اﺣﺘﻠﻢ ﺃﻭ ﻧﻈﺮ ﺇﻟﻰ اﻣﺮﺃﺓ ﻓﺰاﻝ اﻟﻤﻨﻲ ﻋﻦ ﻣﻜﺎﻧﻪ ﺑﺸﻬﻮﺓ ﻓﺄﻣﺴﻚ ﺫﻛﺮﻩ ﺣﺘﻰ ﺳﻜﻨﺖ ﺷﻬﻮﺗﻪ ﺛﻢ ﺳﺎﻝ اﻟﻤﻨﻲ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻐﺴﻞ ﻋﻨﺪﻫﻤﺎ ﻭﻋﻨﺪ ﺃﺑﻲ ﻳﻮﺳﻒ ﻻ ﻳﺠﺐ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﺨﻼﺻﺔ”(ج١، ص١٤)۔

بہار شریعت میں ہے”کسی کو خواب ہوا اور مَنی باہرنہ نکلی تھی کہ آنکھ کُھل گئی اور آلہ کو پکڑ لیا کہ مَنی باہر نہ ہو پھر جب تُندی جاتی رہی چھوڑ دیا اب نکلی تو غُسل واجب ہوگیا”(ج٢، ص٣٢٢)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری | ٢٥اکبوتر٢٠٢٠

Leave a Reply