بیوی/شاگرد وغیرہ کے دھلے کپڑوں کا حکم

بیوی/شاگرد وغیرہ کے دھلے کپڑوں کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

بیوی نے اگر شوہر کے کپڑے کو ہاتھ سے دھویا اور اپنی طاقت کے بقدر نچوڑا تو وہ کپڑا شوہرکیلئے پاک ہو گا یا نہیں اسی طرح شاگرد نے استاذ کے کپڑے دھلے کتب معتبرہ سے دلائل پیش کیے جائیں۔

المستفتی:ناظم القادری نعیمی پاکبڑہ مراداباد ١٣جمادی الاولی ١٤٤٠ھ ،

ثاقب رضا رضوی بنگلور کرناٹک

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب ۔

اگر بیوی نچوڑنے میں اس قدر پانی نکال دیتی ہے جتنا کہ شوہر نکال پاتا یا اس سے زائد تو وہ کپڑا شوہر کے حق میں پاک ہے اور اگر اس سے کم نکال پاتی تو وہ کپڑا شوہر کے حق میں پاک نہیں لہذا اس کپڑے کو پہن کر نماز نہ ہوگی اور جو نمازیں ایسے کپڑے پہن کر پڑھیں وہ بھی نہ ہوئیں ان کا اعادہ فرض ہے یہی حکم استاذ و شاگر اور ان تمام لوگوں کے دھلے ہوے کپڑوں کا ہے جو دوسروں کے کپڑے دھلیں یہ حکم ناپاک کپڑوں کے دھلنے کا ہے اور اگر کپڑے پاک ہوں تو بہر صورت پاک ہی رہیں گے

در مختار میں ہے”وﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻟﻮ ﻋﺼﺮﻩ غیرہ ﻗﻄﺮ ﻃﻬﺮ ﺑﺎﻟﻨﺴﺒﺔ ﺇﻟﻴﻪ ﺩﻭﻥ ﺫﻟﻚ اﻟﻐﻴﺮ”

اس کے تحت ردالمحتار میں ہے”ﻷﻥ ﻛﻞ ﺃﺣﺪ ﻣﻜﻠﻒ ﺑﻘﺪﺭﺗﻪ ﻭﻭﺳﻌﻪ ﻭﻻ ﻳﻜﻠﻒ ﺃﻥ ﻳﻄﻠﺐ ﻣﻦ ﻫﻮ ﺃﻗﻮﻯ ﻟﻴﻌﺼﺮ ﺛﻮﺑﻪ ﺷﺮﺡ اﻟﻤﻨﻴﺔ. ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻝ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﺇﻥ ﻗﺪﺭﺓ اﻟﻐﻴﺮ ﻏﻴﺮ ﻣﻌﺘﺒﺮﺓ ﻭﻋﻠﻴﻪ اﻟﻔﺘﻮﻯ”

(ج١،ص٥٩٤)

بہار شریعت میں ہے” اگر دھونے والے نے اچھی طرح نچوڑ لیا مگر ابھی ایسا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص جو طاقت میں اس سے زِیادہ ہے نچوڑے تو دو ایک بوند ٹپک سکتی ہے تو اس کے حق میں پاک اور دوسرے کے حق میں ناپاک ہے اس دوسرے کی طاقت کا اعتبار نہیں ہاں اگر یہ دھوتا اور اسی قدر نچوڑتا تو پاک نہ ہوتا”

(ح٢ ص٤٠١) 

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ

جب ہم کپڑا پاک کرنے کے لئے پانی میں ڈالتے ہیں تو وہ کپڑا پانی کی ایک مقدار کو جذب کرلیتا ہے مثلا فرض کر لیجئے ١٠٠گرام پانی جذب ہو گیا اور جب نچوڑ کر پانی نکالتے ہیں تو اس کی بھی ایک آخری حد ہے جس کے بعد پانی نہیں نکل سکتا مثلا ۱۰۰ گرام جذب ہوا تو۹۵ گرام تک نکل آے گا

اب نچوڑنے والے طاقت کے اعتبار سے تین قسم کے ہوسکتے ہیں اول وہ جو اپنی مکمل طاقت سے نچوڑیں اور مثلا ٨٠گرام پانی خارج ہوجاے تو وہ ان کے اور ان سے کم طاقت والے کے حق میں پاک مگر ان سے زائد والے کے حق میں ناپاک کہ ان کے لحاظ سے کل نجس پانی نہیں نکلا۔ دوم وہ جو اپنی پوری طاقت سے نچوڑیں اور مثلا ٩٠گرام پانی خارج ہوجاے تو یہ ان کے حق میں پاک اور پہلی قسم والوں کے حق میں بھی مگر ان سے زائد کے حق میں پاک نہ ہوگا۔ سوم وہ جو اپنی طاقت سے نچوڑیں اور کل پانی (جو نکل سکتا ہے) مثلا ۹۵گرام پانی خارج ہوجاے تو اب یہ کپڑا ان کے اور ان سے کم اور زائد سب کے حق میں پاک ہوگا خواہ کتنے ہی طاقتور ہوں کہ در حقیقت پورا نجس پانی خارج ہوگیا۔

تو اب اگر طالب علم یا بیوی پہلی قسم سے ہے اور استاد یا شوہر دوسری قسم سے تو استاد یا شوہر کے حق میں اس کا دھویا ہوا کپڑا پاک نہ ہوگا اور اگر غاسل دوسری قسم سے اور استاد وشوہر پہلی یا دوسری قسم سے تو پاک ہوگا اور اگر یہ لوگ تیسری قسم سے ہیں تو ان کا دھلا ہوا ان کے حق میں پاک نہ ہوگا اور اگر غاسل تیسری قسم سے تو استاد وشوہر خواہ پہلی سے ہوں یا دوسری سے یا تیسری سے خواہ طاقت میں برابر ہوں یا زائد بہرحال ان کے حق میں پاک ہوگا کہ تمام نجس پانی نکل چکا ہے اور اب طاقت کی زیادتی مزید پانی کا اخراج نہیں کر سکتی۔

دوسروں کے کپڑے دھلنے میں ناپاک کپڑے پاک کرنے کیلئے پانی کو جاری کرکے پاک کرنے کا طریقہ اختیار کریں .

واللہ تعالی اعلم

شان محمد المصباحی القادری

٢٤جنوری٢٠١٩

Leave a Reply

%d bloggers like this: