غیر مسلم کو قرض دے کر نفع لینے کا حکم

غیر مسلم کو قرض دے کر نفع لینے کا حکم

حضرت مفتی صاحب قبلہ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بعد تسلیمات عرض ہیکہ ایک مسلم سے غیر مسلم نے چار یا پانچ لاکھ روپیہ اس شرط پر لیا کہ ہر ماہ چالیس یا پچاس ہزار روپیہ نفع کے طور پر ہم آپکو دیتے رہیں گے یہ از روے شرع کیسا ہے ؟

جواب عنایت فرمائیں ۔

کرم ہوگا ۔ فقط

محمد آزاد قادری : اورنگ آباد مہاراشٹر

الجواب بعون الملک الوھاب

مذکورہ صورت میں مسلم کا قرض دینا درست ہے اور اس سے جو فائدہ مل رہا ہے اسے لینا بھی جائز ہے،اسے لینا بھی جائز ہےکیوں کہ غیر مسلم حربی کا مال جب کہ غدر اور بد عہدی نہ ہو ہمارے لیے مالِ مباح ہے، اس میں سود کا تحقق نہیں ہوتا ہے۔ہاں، سود سمجھ کر لینا ناجائز ہوگا۔ ہدایہ میں ہے: ”لَا رِبوٰا بَیْنَ الْمُسْلِمِ وَالْحَرْبِی“ ترجمہ: مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا ۔

(ہدایہ آخرین، صفحہ 90)

بہار شریعت حصہ ۱۱ صفحہ ۳۸۷ پر ہے:

"مسلم اور کافر کے درمیان جو عقد ہو اس میں سود نہیں”

فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۳۸۵ پر ہے:

"کافر حربی اور مسلمان کے درمیان سود نہیں”

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

یکم ربیع الآخر ١٤٤٣/ ٧نومبر ٢٠٢١ء

الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی

استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

Leave a Reply