دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1844
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ہندو دعا کروانے آئے تو دعا کرنا کیسا؟ از مفتی صدام حسین فیضی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,045
سوال (Question):
ہندو دعا کروانے آئے تو دعا کرنا کیسا؟ از مفتی صدام حسین فیضی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ہندو دعا کروانے آئے تو دعا کرنا کیسا؟
غیرمسلم ( ہندو ) دعا کرانے کیلئے آجائے تو دعا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ المستفتی محمدعارف متبنیا سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب غیر مسلموں کے لئے ایسی دعائیں کرنا جن کاتعلق فلاح دارین سے ہو منع ہے ۔ ہاں ان کے لئے ہدایت کی دعا کرنا، شفاء امراض یا دنیا کی معمولی بھلائی کے لئے دعا کرنا جس کاتعلق انسانی مروت سے ہو جائز ہے ۔ ایسا ہی فتاوی بحرالعلوم جلد٥ صفحہ ٣٦٠ کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے ۔ اور متعدد احدیث سے ثابت ہےکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کفار کے لئے دعائیں فرمائی ہیں صحیح البخاری میں ہے :” عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَكَ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ ، فَقَرَأَ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ (سورة الدخان آية ١٠) ثُمَّ عَادُوا إِلَى كُفْرِهِمْ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى (سورة الدخان آية ١٦) يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ وَزَادَ أَسْبَاطٌ عَنْ مَنْصُورٍ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُقُوا الْغَيْثَ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعًا وَشَكَا النَّاسُ كَثْرَةَ الْمَطَرِ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَانْحَدَرَتِ السَّحَابَةُ عَنْ رَأْسِهِ فَسُقُوا النَّاسُ حَوْلَهُمْ (کتاب الاستسقاء، باب اذا استشفع المشرکون بالمسلمین عند القحط، رقم الحدیث ١٠٢٠ ) حضرت مسروق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرمایا میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا کہ قریش کا اسلام سے اعراض بڑھتا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا ضررفرمائی جس کے نتیجے میں ایسا قحط پڑا کہ کفار مرنے لگے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے آخر حضرت ابوسفیان(جو اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم مر رہی ہے اللہ عزوجل سے دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ( سورہ دخان کی آیت ١٠) تلاوت فرمائی “اس دن کا انتظار کر جب آسمان پر صاف کھلا ہوا دھواں نمودار ہو گا الآیہ ( خیر آپ نے دعا کی بارش ہوئی قحط جاتا رہا ) لیکن وہ پھر کفر کرنے لگے اس پر اللہ پاک کا یہ فرمان نازل ہوا “جس دن ہم انہیں سختی کے ساتھ پکڑ کریں گے” اور یہ پکڑ بدر کی لڑائی میں ہوئی اور اسباط بن محمد نے منصور سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی جس کے نتیجہ میں خوب بارش ہوئی کہ سات دن تک وہ برابر جاری رہی۔ آخر لوگوں نے بارش کی زیادتی کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اللهم حوالينا ولا علينا کہ اے اللہ! ہمارے اطراف و جوانب میں بارش برسا، ہم پر نہیں چنانچہ بادل آسمان سے چھٹ گیا اور اردگرد کے لوگ بارش سے سیراب ہوئے۔ و اللہ تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
17
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
9
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
26
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5165
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5060