دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #446
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
میسج (SMS) یا واٹس ایپ پر طلاق دینے کا حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
23
سوال (Question):
اگر شوہر غصے میں موبائل پر لکھ کر طلاق کا میسج بھیج دے، تو کیا طلاق ہو جائے گی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق کے واقع ہونے کے لیے زبانی بولنا شرط نہیں، تحریری طلاق بھی شرعاً معتبر ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ میسج شوہر ہی نے اپنے ارادے سے ٹائپ کر کے سینڈ کیا ہے اور الفاظ صریح ہیں (جیسے میں تجھے طلاق دیتا ہوں)، تو میسج سینڈ کرتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی، خواہ بیوی نے میسج پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
13
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
7
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
21
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5162
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5057