دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1712
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
5,580
سوال (Question):
قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں زید نے قسم کھائی قرآن پر ہاتھ رکھ کر اب غلط کام نہیں کروں گا زید نے غلط کیا زید پر کفارہ لازم آئے گا نہیں۔ سائل:-۔ محمد عابد رضا نظامی مہراجگنج ۔ الجواب بتوفیق الملک الوہاب صورت مسئولہ میں زید نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قرآن مجید کی قسم کھائی تو یہ شرعا قسم ہے توڑنے کی بنا پر کفارہ واجب ہوگا اس لیے کہ قرآن شریف کی قسم پہلے متعارف نہ تھی۔ جیسا کہ صاحب ھدایہ نے اس کی تعلیل میں فرمایا ” لانہ غیر متعارف ” لیکن اب اس کی قسم متعارف ہے اس لئے قرآن مجید کی قسم جمہور کے نزدیک شرعی قسم ہے اور اس پر شرعی قسم کے احکام مرتب ہونگے ۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “فتاوی رضویہ” میں تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی قسم شرعا قسم ہے فی الدر المختار ” قال الکمال لا یخفی ان الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینا انتھی، اسی میں ہے ” الایمان مبنیة علی العرف فما تعورف الحلف بہ فیمین ومالا فلا انتھے ۔ (فتاوی رضویہ قدیم ،ج،٥ ،ص،٣٣٣،باب الایمان ،طابع وناشر دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی) اور بہار شریعت میں ہے قرآن کی قسم کلام اللہ کی قسم ان الفاظ سے بھی قسم ہو جاتی ہے۔ (بہار شریعت،ج،٢،ح،نہم،ص،٣٠١،قسم کا بیان،مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی) ہاں اگر زید قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ ایسا نہیں کرونگا اور پھر کیا تو کفارہ نہیں نہ ہی یہ شرعا قسم ہے۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “فتاوی رضویہ” میں تحریر فرماتے ہیں کہ کلام اللہ اللہ عزوجل کی صفت قدیمہ ہے صفات الہیہ عین ذات ہیں نہ غیر ذات کلام اللہ کی قسم ضرور حلف شرعی ہے ” لانہ من صفاتہ وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ لا کا لحلف برحمتہ وجودہ وکرمہ لعدم التعارف وھذا ھو منات الحلف الشرعی کما فی الدر المختار وغیرہ” ہاں مصحف شریف ہاتھ میں لیکر یا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظا حلف وقسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگا مثلا کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایسا کام کرونگا اور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا۔ (فتاوی رضویہ قدیم ،ج،٥ ،ص،٣٦٠،باب الایمان ،طابع وناشر دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب، کتبـــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
17
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
9
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
26
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5165
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5060