دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1548
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قبر پر اگنے والی گھاس کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,713
سوال (Question):
قبر پر اگنے والی گھاس کا حکم از علامہ کمال احمد علیمی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قبر پر اگنے والی گھاس کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلۂ ذیل میں کہ قبر پر جو پودے اگ آتے ہیں ان کو کیا کیا جائے، کاٹ دیں یا چھوڑ دیں، رہنمائی فرمائیں. عبدالقدوس وسئی ممبئی الجواب بعون الملک الوھاب ہرے پودے جو قبر پر ہوں ان کو کاٹنا منع ہے، لیکن اگر اس کی جڑ سے قبر یا مردے کو نقصان پہنچے تو کاٹ دینا چاہیے،یوں ہی اگر خشک ہو جائے تو بھی کاٹنے میں حرج نہیں. قرآن مجید میں ہے : تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(الاسراء:۴۴) ردالمحتار میں ہے : یکرہ قطع النبات الرطب و الحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر و الدرر و شرح المنیۃ، و عللہ فی الامداد بانہ ما دام رطباً یسبح اللہ تعالیٰ فیؤنس المیت و تنزل بذکرہ الرحمۃ، ونحوہ فی الخانیۃ۔۔۔ لان فیہ تفویت حق المیت“ (ج ٣ ص ١٨٤) مراقی الفلاح میں ہے : وکرہ قلع الحشیش الرطب وکذا الشجر من المقبرة؛ لأنہ ما دام رطبًا یسبِّح اللّٰہ تعالیٰ فیونس المیت وتنزل بذکر اللّٰہ تعالیٰ الرحمة، ولا بأس بقلع الیابس منہا أی الحشیش والشجر لزوال المقصود۔ (مراقی الفلاح، فصل فی زیارة القبور،ص ۳۴۲) فتاوی رضویہ میں ہے : قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تک سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔ جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کےلئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقاً حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہے، مذہب اسلام کی توہین ہے، کھلی مذہبی دست اندازی ہے، ردالمحتار میں بحرالرائق اور درر الحکام اورغنیـہ اورامداد الفتاح اورفتاوٰی قاضیخان سے ہے: یکرہ قطع النبات الرطب من المقبرۃ دون الیابس. قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے خشک کاٹنا مکروہ نہیں۔(فتاوی رضویہ مترجم جلد ۱۶ صفحہ ٩١) بہارِ شریعت میں ہے: ”قبر پر سے تر گھاس نوچنا نہ چاہیے کہ اس کی تسبیح سے رحمت اترتی ہے اور میت کو انس ہوتا ہے اور نوچنے میں میت کا حق ضائع کرنا ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد ١ صفحہ ٨٥٢ مکتبہ المدینہ دعوت اسلامی کراچی ) فتاوی فیض الرسول میں ہے : ہرے پودے جو خاص قبر پر ہوں ان کی شاخوں کو کاٹنا منع ہے کہ ان کی تسبیح سے مُردہ کو فائدہ پہنچتا ہے۔ کما فی رد المحتار(جزئیہ اوپر مذکور ہے)لیکن اگر پودے کی جڑ سے قبر یا مردے کو نقصان پہنچے تو کاٹ دئیے جائیں۔“ (فتاوی فیض الرسول ١/ ٤٧٣) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٦ رمضان المبارک ١٤٤٣/ ٨اپریل ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
19
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
10
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
29
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5166
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5061