دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #249
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
بینک کی نوکری اور تنخواہ کا شرعی حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
13,254
سوال (Question):
کیا سودی بینک میں کلرک یا مینیجر کی نوکری کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
روایتی (سودی) بینک میں ایسی نوکری جس کا براہِ راست تعلق سودی کھاتوں، قرضوں یا رسیدوں کے لکھنے سے ہو، وہ حرام ہے اور اس کی تنخواہ بھی حرام ہے۔ صفائی والے یا گارڈ کی نوکری مکروہ ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
13
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
7
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
21
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5162
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5057