دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1337
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,499
سوال (Question):
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب جو نکاح پڑھا تے ہیں مسجد کے متولی اور ممبر حضرات اور گاؤں والے اس میں سے کچھ روپیہ لے کر مسجد میں لگا تے ہیں کیا مسجد میں لگا نا جائز ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔ سائل: احسان رضا قادری پیش امام بڑے پورہ ضلع بریلی شریف یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب اگر امام صاحب کے فرائض منصبی میں نکاح پڑھانا بھی داخل ہو یا امام صاحب اپنی خوشی سے مسجد میں صرف کرنے کے لئے دیں تو مسجد میں لگانا جائز بصورت دیگر نکاحانہ نکاح خواں کا حق ہے اس سے جبراً لینا ناجائز ہے . جنہوں نے ایسا کیا ان پر لازم ہیکہ توبہ کریں اور جتنا امام صاحب سے لیا ہو واپس کریں اور امام صاحب سے معافی مانگیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: “وکل نکاح باشرہ القاضی وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له اخذ الاجرة عليه ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه ” اھ ( ج٣، ص٣٢٨، کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے جبکہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب ہو جیسے چھوٹے بچوں اور بچیوں کا نکاح تو اسے اجرت لینا حلال نہیں اور جب اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔بغیر گواہوں کے نکاح کرنا کیسا ہے؟ از مفتی محمد رضا مرکزی
حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ سے سوال ہوا : “نکاح خواں کو اجرت لینا اور دینا کیسا ہے؟ اگر اجرت نکاح اپنے مصرف میں نہ لائے بلکہ مسجد کے تیل اور چٹائی میں صرف کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ جواباً تحریر فرمایا: “جائز ہے۔ جب جائز ہے تو مسجد میں دینا اور بہتر ہے ” اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج١١، ص ٢٥٧، کتاب النکاح ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “غصب کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ دوسرے کا مال ہے تو غاصب گنہگار ہے اور چیز موجود ہو تو مالک کو واپس کردے موجود نہ ہو تو تاوان دے ” اھ (بہار شریعت، حصہ ١٥، ص٢١٠، غصب کا بیان، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
19
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
10
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
29
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5166
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5061