دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #899
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ادھار والی بیع کی قیمت بعد میں بڑھا دینا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,180
سوال (Question):
ادھار والی بیع کی قیمت بعد میں بڑھا دینا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ادھار والی بیع کی قیمت بعد میں بڑھا دینا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر کو چھ ہاتھ زمین بعوض تیس ہزار روپئے ہاتھ بیچی ، اور رقم دینے کی کوئی مدت متعین نہیں کی ،بکر نے رقم کا زیادہ حصہ ادا کر دیا تھا اور کچھ رقم باقی بچی تھی، کچھ سال بعد بکر نے اس زمین کو زیادہ قیمت میں بیچ دیا ، اب زید کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ رقم موجودہ قیمت کے حساب سے لیں گے جبکہ زید نے پہلے اس طرح کی کوئی قید نہیں لگائی تھی ۔ ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے شرعا اس کا حکم بیان کرکے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں ۔ عارض:وارث علی خان علیمی مقام و پوسٹ کپتان گنج بستی یوپی الجواب بعون الملک الوھاب. جب ایک متعین رقم کے عوض زید نے بکر کو زمین بیچ دی تو اب اس کا بکر سے طے شدہ دام سے زیادہ کا مطالبہ کرنا ہرگز جائز نہیں. فقہ حنفی کی مشہور کتاب “ہدایہ” میں ہے: “وَإِذَا حَصَلَ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ ثُمَّ الْبَيْعُ وَلَزِمَ، وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْ الْمُتَعَاقِدَيْنِ الْخِيَارُ إلَّا مِنْ عَيْبٍ أَوْ عَدَمِ رُؤْيَةٍ” (الہدایہ، کتاب البیوع) در مختار میں ہے: “وحكمه ثبوت الملك. وفي الرد:(قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن/ (كتاب البيوع، ج:٤، ص:٥٠٦) فتاوی ہندیہ میں ہے : “وأما حكم البيع .. فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال.” (کتاب البیوع،فصل فی حکم البیع،ج:٥، ص:٢٣٣) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “بیع کا حکم یہ ہے کہ مشتری مبیع کا مالک ہو جائے اور بائع ثمن کا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بائع پر واجب ہے کہ مبیع کو مشتری کے حوالہ کرے اور مشتری پر واجب کہ بائع کو دیدے۔”(بہار شریعت ح١١ص٦٢٢) واللہ اعلم بالصواب۔ کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی. ٢٤محرم الحرام ١٤٤٥/ ١٢ اگست ٢٠٢٣ التصحیح :محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی.
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
Recent Fatawa
عدت کے دوران رجوع نہیں کروں گا اس شرط پر طلاق دیا تو کون سی طلاق واقع ہوگی از علامہ کمال احمد نظامی علیمی
Read Fatwa
17
ناشزہ نان ونفقہ کی حق دار نہیں از مفتی کمال احمد علیمی نظامی
Read Fatwa
9
مجھے بہت جلدی اور شدید غصہ آتا ہے، کیا پڑھوں؟
Read Fatwa
26
رزق اور کاروبار میں برکت کی دعا
Read Fatwa
5165
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کی مسنون دعا
Read Fatwa
5060