فاسق معلن کسے کہتے ہیں اور اس پر کیا احکام نافذ ہوتے ہیں ؟

فاسق معلن کسے کہتے ہیں اور اس پر کیا احکام نافذ ہوتے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان اس مسئلہ میں کہ زید ایک مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھاتا ہے اور بکر نے اسے چھپ کر گناہ کرتے دیکھ لیا ۔ سوال یہ ہے کہ

(1) کیا بکر پر یہ ہے کہ لوگوں کو زید کے گناہ پر اطلاع کرے یا اسے چھپائے ؟

(2) کیا لوگوں کے باخبر ہونے کی وجہ سے زید کا فعل فسق علی الاعلان ہوجائے گا ۔ اور اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہوگی؟

(3) اگر بکر نے لوگوں کو اطلاع نہ کی تو بکر کے لیے زید فاسق معلن ہے یا نہیں ؟ اس کے پیچھے اس کی نماز ہوگی کہ نہیں؟

(4) اگر لوگوں کے باخبر ہونے کی وجہ سے زید کے پیچھے نماز جائز نہیں تو پہلی نمازوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا ان کی قضا کرنی ہوگی یا نہیں ؟
(5) اگر زید کے پیچھے نماز جائز نہ ہو اور کوئی عالم دین پھر بھی پڑھے اور اعتراض کرنے پر یہ کہے ” میں لوگوں میں فتنہ کے خوف سے پڑھ کر دہرا لیتا ہوں” تو اس عالم دین کا یہ کرنا صحیح ہے یا غلط؟ غلط ہے تو اس عالم پر کیا حکم ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1,2,3,4,5)۔ فاسق معلن وہ شخص ہے جو کھلے طور پر گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے ۔ یا بار بار گناہ صغیرہ کا علانیہ مرتکب ہو ۔ اور اگر کوئی شخص چھپ چھپا کرکسی گناہ میں ملوث ہوگیا ہو تو بھی فاسق ضرور ہے ۔ مگر فاسق معلن نہیں ، غیر معلن ہے ۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے:
” فاسق وہ کہ کسی گناہ گیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے ۔ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ پھر اگر ” معلن ” نہ ہو یعنی وہ گناہ چھپ کر کرتا ہو ، معروف و مشہور نہ ہو تو کرا ت تنزیہی ہے ۔ اور اگر فاسق معلن ہو کہ علانیہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب یا صغیرہ گناہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے ۔

اس عبارت سے فاسق معلن وغیر معلن کی تعریف ظاہر ہے ، اس کے پیش نظر زید "فاسق غیر معلن ہے” اس لیے ابھی وہ قابل امامت ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی نہیں ہے ۔ نہ ہی اس کا اعادہ واجب ہے ۔ ہاں بکر کی نماز مکروہ تنزیہی ہوگی ۔ بکر کو چاہئیے کی زید کی اصلاح کرے ۔
فاسق معلن کا وہ حکم اس لیے ہوتا ہے جب وہ اس قدر جری بے باک ہے کہ کھلے طور پر گناہ کبیرہ کا ارتکاب کر بیٹھا، یا صغائر میں بار بار ملوث ہو رہا ہے ۔ تو اس سے کیا بعید کہ وہ نماز میں ایسی حرکت کر نہ بیٹھے جو نماز مکروہ یا فاسد کردے ۔ فاسق غیر معلن میں یہ جرأت و بے باکی نہیں ہوتی اس لیے میں فرق احکام رکھا گیا۔

غنیہ شرح منیہ میں ہے:

لو قدموا ففاسقا ياثمون، بناء على أن كراهة تقديمةكراهة تحريم لعدم اعتنائه بأمور دينه وتساهله في الإتيان بلوازمه فلا يبعد منه إلا خلال ببعض شروط الصلاة، وفعل ما ىنافيها . بل هو الغالب بالنظر الي فسقه ، ولذا لم تجز الصلاة خلفه اصلا عند مالك ورواية عن أحمد، الا انا جوزناها مع الكراهة لقوله عليه الصلاه والسلام” صلوا خلف كل بر وفاجر”

( رواه الدار قطني) (514,513: فصل في الإمامة ، المبحث الرابع)

واللہ تعالی اعلم

کتبـــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Leave a Reply

%d bloggers like this: