فرضی قبر کی زیارت اور عرس و فاتحہ کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

فرضی قبر کی زیارت اور عرس و فاتحہ کا حکم

کیا فرماتے علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک عورت ہے جو جنات سے متاثر ہے ، وہ خواب میںدیکھی ہے ۔ اس کے کہنے پر شہید بابا کا مزار بنا کر کچھ دنوں سے وہاں پر فاتحہ نیاز، چادر پوشی وغیرہ ہورہاہے ۔ جب کہ میں اسی گاؤں کا رہنے والا ہوں ، میری عمر 80/75 سال ہے ، گاؤں کے کسی بزرگ دادا یا پردادا سے نہیں سنا گیا کہ یہاں کوئی شہید بابا رہے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ کوئی پڑھا لکھا آدمی وہاں جاکر مٹی کے ڈھیر کے پاس کھڑا ہوکر فاتحہ نیاز کرتاہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ۔ اس سے سلام، دعا یا اس کے پیچھے کبھی نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں ۔ جنات کے کہنے یا نشان دہی پر مزار بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس عورت کے خواب کاحکم کیا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ

جو انسان جن و شیطان سے متاثر ہوتا ہے ،جنات اس کے حواس کو بے کار کر کے اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور اس سے غلط سب باتیں بکواتا رہتا

ہے ۔ اور خواب کی بات خلاف شرع امور میں مسموع نہیں ہو سکتی ۔ صورت مسؤلہ میں اس مدہوش عورت کی بات اور خواب کا شرع میں کوئی

اعتبار نہیں ۔ اور جس جگہ کے بارے میں بالیقین یہ معلوم نہ ہو کہ یہاں کوئی مسلمان مردہ دفن ہے ، اس کو کسی بزرگ کی قبر مان کر اس کے

ساتھ اصلی قبر کے جیسا معاملہ کرنا یعنی فاتحہ وغیرہ پڑھنا ، عرس لگانا اور اس کی زیارت کے لیے جانا شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے ۔

لہذا اس مصنوعی اور فرضی قبر کو شہید بابا کا مزار مان کر وہاں عرس لگانا ، فاتحہ پڑھنا جائز نہیں ۔ اور فرضی جانتے ہوئے وہاں فاتحہ پڑھنا ، زیارت

کرنا اشد گناہ ہے ۔ ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ مگر یہ کہ ان خرافات سے بیزار ہو کر مجمع المسلمین میں توبہ کر ے، اس پر

قائم رہے ساتھ ہی جامع شرائط امامت ہو ۔

واللہ تعالی اعلم

کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Leave a Reply

%d bloggers like this: