فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانا کیسا ہے ؟

فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانا کیسا ہے ؟

سوال : منفرد نے نماز ظہر فرض پڑھی تین رکعتوں کو بھری پڑھی، چوتھی رکعت میں سورت نہیں ملائی رکوع و سجود کر کے نماز پوری کرلی تو اس کی نماز ادا ہوئی کی نہیں؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ

منفرد کی نماز بلاکراہت ادا ہوگی اس لیے کہ اسے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت کا ملانا جائز ہے. نہ واجب ہے نہ مکروہ. لہذا دونوں رکعتوں میں ملائے یا ایک میں بہر صورت جائز ہے. البتہ صاحب حلیہ نے خلاف اولی کا افادہ فرمایا ہے. اور خلاف اولی وہ ہے کہ جس کا نہ کرنا بہتر اور کیا تو کچھ مضائقہ نہیں. بلکہ بعض ائمہ نے فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت ملانے کو مستحب ہونے کی تصریح فرمائی ہے. اور ظاہراً یہ استحباب صرف منفرد کے لئے ہے امام کے لیے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گزرے تو حرام ہے.

در مختار میں ہے
ضم سورۃ في الاولين من الفرض و هل يكره في الاخرين المختار لا.

اور رد المحتار جلد اول ص 308 میں ہے
في البحر عن فخر الاسلام ان السورۃ مشروعۃ في الاخریين نفلا وفي الذخيرۃ انه المختار وفي المحيط وهو الاصح والظاهر ان المراد بقوله نفلا الجواز والمشروعيۃ بمعنى عدم الحرمۃ فلا ينافي كونه خلاف الاولى كما افاده في الحليۃ ١ھ
واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب

کتبـــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 242

Leave a Reply

%d bloggers like this: