فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت نہ ملانے کی وجہ

فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت نہ ملانے کی وجہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسٔلہ میں کہ ظہر ہو یا عصر ہو یا عشاء ہو ان تینوں فرض نماز کی پہلی دورکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ پڑھتے ہیں اور دورکعت میں کیوں نہی پڑھتے ہیں جواب عنایت فرمائیں ۔

الـسـائل: شمـس عــالم سیـتا مڑھی بہار

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

بسـم اللـہ الرحمٰـن الرحـیم

الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب اللھم ھدایتہ الحق والصواب 

ظہر،عصر،اور عشا کی،تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کیساتھ سورت اس لئے نہیں ملائی جاتی کہ احادیث مبارکہ میں یہی طریقہ موجود ہے ۔

امام اجل محدث جلیل حضرت ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی رضی اللہ تعالی عنہ نے طحاوی شریف میں ان روایات کو نقل فرمایا ہے ،عبد اللہ بن مقسم فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے ان سے فرمایا جب تم تنہا نماز پڑھو تو ظہر اور عصر کی پہلی رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھو اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھو (شرح معانی الآثار المعروف طحاوی،باب القرأۃ فی الظہر والعصر) اسکے علاوہ اور بھی روایات اسی باب میں موجود ہیں امام عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے مصنف میں باب قائم کیا ۔

من کام یقرءفی الاولین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ و فی الآخرین بفاتحۃ الکتاب اس باب میں متعدد روایات نقل فرمائیں ابن سیرین رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبئت ان ابن مسعود کان یقراء فی الظہر والعصر فی الرکعتین الا ولین بفاتحۃ الکتاب وما تیسرو فی الآخرین بفاتحۃ الکتاب یعنی مجھے خبر دی گئی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ظہر وعصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھتے اور جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکیں،اوربعد کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھتے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ جلد ١ صفحہ ٤٠٦)

اسی باب میں سیدنا فاروق اعظم حضرت ابو درداء،حضرت جابر،ام المؤمنین سیدہ صدیقہ،شیر خدا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہم کے معمول اور ارشاد درج ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت یا آیات کو پڑھا جائے اور بعد کی دو رکعتوں میں فقط سورہ فاتحہ بعض لوگ بعد کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت یا آیات پڑھنے پر سجدۂ سہو کا حکم لگاتے ہیں جو کہ درست نہیں امام اہلسنت مجدد اعظم قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں اگر قصدا بھی فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں صرف خلاف اولی ہے

(فتاویٰ رضویہ جلد ٨ ص١٩٢)

ایسا ہی ضیاء شریعت جلد ٢ صفحہ ٣١-٣٢ میں بھی ہے۔

واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب

حضرت علامہ مولانا محمد منظـــور عالم قادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

استاد؛۔ دارالعــلوم اہلسنت معین الاسلام

چھتونہ میگھولی جلاں مہراجگنج (یوپی)

Leave a Reply

%d bloggers like this: