کریڈٹ کارڈ کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟

کریڈٹ کارڈ کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

سوال : کریڈٹ کارڈ کی خریدوفروخت جائز نہیں کیونکہ اس میں عمومی وجہِ حرمت وقتِ مقررہ پر رقم نہ لوٹانے کی صورت میں اضافی رقم دینے کی شرط لگانا ہےجوکہ سود اورحرام ہے اگرچہ یہ گمان ہو کہ میں سود لازم ہونے سے پہلے ہی رقم لوٹا دوں گا تب بھی سودی معاملہ طے کرنے اور اس پر راضی ہونے کی وجہ سے یہ ناجائز ہی ہوگاکیونکہ یہ بات معروف ہے کہ اگر مقررہ مدت تک رقم جمع نہ کروائی تو اضافی رقم یعنی سود دینا ہوگا گویا کریڈٹ کارڈ لینے والا یہ عہدوپیمان کر رہا ہے کہ اگر وقتِ مقررہ پر رقم جمع نہ کروائی تو اس پر اضافی رقم یعنی سود دوں گا اور سود کا لین دین تومطلقاً حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔

چنانچہ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:

"واحل اللہ البیع وحرم الربوا”

یعنی اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود کو ۔

(پارہ 3 سورۃ البقرہ آیت نمبر 275)

حدیث مبارکہ میں ہے:

"لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ قال وھم سواء”

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے سود دینے والے اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا کہ یہ تمام لوگ برابر ہیں ۔

(صحیح مسلم کتاب البیوع باب الرباء جلد2 صفحہ27, مشکوۃ صفحہ 244 مکتبہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

"ملازمت بلااطلاع چھوڑ کر چلے جانا اس وقت تنخواہ قطع کرے گا نہ تنخواہ واجب شدہ کو ساقط اور اس پر کسی تاوان کی شرط کر لینی مثلا نوکری چھوڑنا چاہے تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دے ورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی یہ سب باطل و خلاف شرع مطہر ہے پھر اگر اس قسم کی شرطیں عقداجارہ میں لگائی گئیں جیسا کہ بیانِ سوال سے ظاہر ہے کہ وقت ملازمت ان قواعد پر دستخط لے لیے جاتے ہیں یا ایسے شرائط وہاں مشہور و معلوم ہوکر المعروف کالمشروط ہوں جب تو وہ نوکری ہی ناجائز وگناہ ہے کہ شرط فاسد سے اجارہ فاسد ہوا اور عقدِ فاسد حرام ہے اور دونوں عاقد مبتلائے گناہ اور ان میں ہر ایک پر اس کا فسخ واجب ہے اور اس صورت میں ملازمین تنخواہ مقررہ کے مستحق نہ ہوں گے بلکہ اجرِ مثل کے جو مشاہرہ معینہ سے زائد نہ ہوں اجرِ مثل اگر مسمی (مقررہ) سے کم ہو تو اس قدر خود ہی کم پائیں گے اگرچہ خلاف ورزی اصلاً نہ کریں” ۔

(فتاوی رضویہ جلد 19 صفحہ 506,507 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :

"قرض دیا اور ٹھہرالیاکہ جتنا دیا ہے اس سے زیادہ لے گا جیسا کہ آج کل سود خوروں (سودکھانے والوں) کا قاعدہ ہے کہ روپیہ دو روپے سیکڑا ماہوار سود ٹھہرا لیتے ہیں یہ حرام ہے یونہی کسی قسم کے نفع کی شرط کرے ناجائز ہے” ۔

(بہار شریعت جلد دوم, حصہ 11, مسئلہ نمبر21 ,صفحہ 759 مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: