چرایا ہوا موبائل بیچنا اور خریدنا کیسا ہے ؟ / چرایا ہوا سامان خریدنا اور بیچنا؟

چرایا ہوا موبائل بیچنا اور خریدنا کیسا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــ

موبائل کی کثرت استعمال نے موبائل چوروں کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا ہے ۔ اگر خریدار کو معلوم ہوجائے کہ یہ موبائل چرایا ہوا ہے تو اسے ہرگز نہ خریدے، کیونکہ چوری کا مال جان بوجھ کر خریدنا حرام ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی فرماتے ہیں: ” چوری کا مال دانستہ خریدنا حرام ہے ، بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے۔ ” آج کل موبائل چور اور موبائل دکاندار کے درمیان پہلے سے ساٹھ گانٹھ رہتی ہے ۔ چور موبائل چرا کر دکاندار کو دیتا ہے اور دکاندار سے فروخت کرتاہے ۔ مسلم دکانداروں کو موبائل چوروں سے موبائل خرید کر اپنی دکان میں ہرگز نہیں بیچنا چاہیے۔ جس دکاندار کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ وہ چوری کا موبائل بیچتا ہے، ایسے دکاندار سے چرایا ہوا موبائل خریدنا جائز نہیں۔

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
” اگر بائع (بیچنے والا) ایسا شخص ہے کہ حلال و حرام یعنی چوری وغصب سب ہی طرح کی چیزیں بیچتا ہے تو احتیاط یہ ہے کہ دریافت کرلے۔ حلال ہو تو خریدے ،ورنہ جائز نہیں ۔”
چوری کا موبائل جس طرح خریدنا حرام ہے، اسی طرح اسے فروخت کرنا یا فروخت کرنے کا کاروبار کرنا بھی حرام ہے۔

ماخوذ از موبائل فون کے ضروری مسائل تصنیف علامہ طفیل احمد مصباحی 

Leave a Reply