چین والی گھڑی پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

کیا مرد کے لئے چین والی گھڑی پہننا جائز ہے اور چین والی گھڑی پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

سائل : محسن مدنی

الجواب بعون الملک الوہاب:

فی زمانہ عمومِ بَلْویٰ کی وجہ سے چین والی گھڑی مردوں کے لئے پہننا جائز ہے اور ان کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اور ان کو پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے البتہ بہتر ہے کہ ان کو اتار کر نماز پڑھی جائے کیونکہ بعض علمائے کرام اب بھی اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور وہ اس حدیثِ مبارکہ سے دلیل پکڑتے ہیں جس حدیث مبارکہ میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد سے جس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی فرمایا :

"مالی اجد منک ریح الاصنام فطرحہ ثم جاء وعلیہ خاتم من حدید فقال مالی اری علیک حلیۃ اھل النار فطرحہ فقال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم من ای شئی اتخذہ ؟ قال من ورق ولا تتمہ مثقالا "

کہ کیا بات ہے کہ میں تجھ سے بتوں کی بو پاتا ہوں اس نے وہ انگوٹھی اتار دی پھر آیا تو لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں تجھ پر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں اس نے وہ بھی اتار دی اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں تو فرمایا چاندی کی انگوٹھی بناؤ اور ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشے پورے نہ کرنا”.

(مشکاۃ المصابیح صفحہ 391 مکتبہ رحمانیہ)

لیکن فی زمانہ عمومِ بَلْویٰ ہوچکا ہے کہ ہر عام وخاص , امیر و غریب , عوام اور علماءِ کرام چین والی گھڑی استعمال کرتے ہیں لہذا عمومِ بلویٰ کا اعتبار کرتے ہوئے مشکوٰۃ شریف کی حدیث مبارکہ کو چین والی گھڑی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے زیورات کیلئے خاص کر دیا جائے گا کہ مرد ان کو سوائے چاندی کی مخصوص انگوٹھی کے نہیں پہن سکتا اور چین والی گھڑی کو اس حدیثِ مبارکہ سے مستثنیٰ کرکے اس کے لئے جائز ہونے کا حکم دیا جائے گا.

جیسا کہ الاشباہ والنظائر میں ہے :

"ذَکَرَ بَعْضُھُمْ اَنَّ الْاَمْرَ اِذَا ضَاقَ اِتَّسَعَ”

یعنی بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے.

(الاشباہ والنظائر القاعدۃ الرابعہ صفحہ 84 میر محمد کتب خانہ کراچی)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

"اقول : ولسنا نعنی بھذا ان عامۃ المسلمین اذا ابتلوا بحرام حل بل الامران عموم البلوٰی من موجبات التخفیف شرعا وماضاق امر الااتسع فاذا وقع ذٰلک فی مسئلۃ مختلف فیھا ترجح جانب الیسر صونا للمسلمین عن العسر ولایخفی علی خادم الفقۃ ان ھذا کماھوجار فی باب الطھارۃ والنجاسۃ کذٰلک فی باب الاباحۃ والحرمۃ”

یعنی (میں کہتاہوں کہ) اور ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ عام مسلمان اگرکسی حرام میں مبتلا ہوجائیں تو وہ حلال ہوجاتا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ عمومِ بلوٰی شرعی طور پر اسبابِ تخفیف میں سے ہے، کوئی تنگی نہیں جس میں وسعت نہ پیداہو، جب یہ معاملہ ایک اختلافی مسئلہ میں واقع ہوا تو مسلمانوں کوتنگی سے بچانے کے لئے آسانی کی جانب کو ترجیح ہوگی۔ خادم فقہ پر پوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ طہارت و نجاست میں جاری ہے۔ ایسے ہی حرمت و اباحت میں بھی جاری ہے۔

(فتاوی رضویہ جلد25 صفحہ 89رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مزید ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :

"والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ”

نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلوی اسباب تخفیف سے ہے خصوصا مسائل طہارت اور نجاست میں۔ (ت)

(فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ391 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

لہذا عمومِ بلویٰ کی وجہ سے مردوں کے لیے چین والی گھڑی کا پہننا جائز ہے.

فائدہ: عمومِ بلویٰ سے مراد وہ امر ہے کہ بلادِکثیرہ (یعنی کثیر شہروں) میں کثرت کے ساتھ رائج ہو, عوام و خواص سبھی اس میں مبتلا ہوں اور اس سے بچنا دشوار اور باعثِ حرج ہو.

(ہمارےمسائل اور ان کاحل جلد2 صفحہ 140 بحوالہ:صحیفہ فقہ اسلامی)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply