بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کیے بغیر اگر طلاق دے تو کیا حکم ہے؟

بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کیے بغیر اگر طلاق دے تو کیا حکم ہے؟

سوال : محترم المقام لائق صد احترام جناب مفتیان کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
عرض تحریر یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ میں کہ زید نشے کی حالت میں گھر آتاہے، تو اس کی ماں زید کو حکم دیتی ہے، زید کا حکم سننا تھا کہ غصہ ہو جاتا ہے اور ماں سے بدتمیزی کرتا ہے زید کی بیوی کو یہ بدتمیزی بری لگی اور بولی آپ امی سے ایسی بد تمیزی کیوں کرتے ہیں، امی کو کچھ روپے کی ضرورت ہے، ان کو روپیہ دے دو اوراگر آپ کے پاس روپے نہیں ہے تو میں میری امی کے پاس خبر دیتی ہوں، میری امی روپے لا کر دیں گے تب ان کو دوا اور دعا جو کرنا ہے وہ کریں گے، اس بات پر ناراض ہو کر بولا ہم لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہیں جو ہماری امی کے پاس سے لاکر دوگی، اسی بات پر شوہر نے بیوی سے کہا بھاگ بھاگ، اس پر بیوی نے کہابھاگ بھاگ کیوں کہتے ہو طلاق دے دو دو ،اس پر شوہر نے کہا نیچے حجرے میں کوئی ہے تو بلاؤ، اس جملے کے فوراً بعد کہا ایک طلاق دو طلاق تین طلاق بغیر اضافت کے شوہر شراب کے نشہ میں تھا وہ کہتا ہے کہ میں نے زبانی ایسا کہہ دیا ہے دل میں طلاق دینے کی نیت نہیں تھی،
شوہر کا کہنا ہے کہ میری نیت میں یہ نہیں تھا کہ ایسا کہنے سے نکاح کمزور یا طلاق ہو جاتا ہے یا نہیں، مجھے کچھ بھی نہیں معلوم میں نے صرف زبانی ہی کہا ہے لوگ کہتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا ، اس کے نیت میں گمان بھی نہ تھا۔
لہذا آپ سے گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں فیصلہ فرما دیں ۔

الجواب بعون الملک الوہاب:

صورت مسئولہ میں شوہر کی طرف سے بولے گیے الفاظ میں پانچ الفاظ ایسے ہیں جن سے طلاق ہوسکتی ہے۔ ان پانچ الفاظ میں سے دو الفاظ "(١) بھاگ (٢) بھاگ” کنایہ کے الفاظ ہیں۔ اور یہ الفاظ اُن کنایاتِ طلاق سے ہیں، جن سے طلاق واقع ہونے کے لیے بہر حال نیت کی ضرورت ہے۔ اگر اِن الفاظ سے طلاق کی نیت ہو تو ایک طلاق بائن پڑے گی اور اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق نہیں پڑے گی۔لہذا اگر اس بات پر شوہر قسم کھا لیتا ہے کہ ان الفاظ سے میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو اس کی بات مان لی جائے گی۔ اور اگر طلاق کی نیت بتاتا ہے یا مجلسِ قضا میں قسم کھانے سے انکار کرتا ہے تو ان الفاظ سے ایک طلاقِ بائن پڑ جانے کا حکم ہوگا۔
اور اِن پانچ الفاظ میں سے تین الفاظ یعنی : "(١) ایک طلاق (٢) دو طلاق (٣) تین طلاق” صریح الفاظِ طلاق سے ہیں جن سے طلاق ہونے کے لیے نیت درکار نہیں ہے۔ لیکن الفاظِ طلاق بولنے سے اس وقت طلاق پڑتی ہے جب اس کی نسبت اور اضافت بیوی کی طرف ہو۔ خواہ یہ نسبت لفظ میں ہو یا شوہر کی نیت میں ہو۔اگر لفظ میں نسبت نہ ہو اور شوہر قسم کے ساتھ یہ کہے کہ بیوی کی نیت سے یہ لفظ نہ کہے تو اس کی بات مان لی جائے گی۔

اب یہاں غور کرنے سے یہ واضح ہے کہ صورتِ مسئولہ میں لفظ میں طلاق کی اضافت بیوی کی طرف نہیں ہے، کیوں کہ بیانِ سائل سے خود ظاہر ہےکہ شوہر کے کلام میں طلاق کی صریح اضافت بیوی کی طرف نہیں ہے۔ نیز یہاں ضابطہ مقررہ "السوال معاد فی الجواب” کے تحت بھی نہیں کہا جاسکتا کہ بیوی کے مطالبہ طلاق کا جواب ہونے کی وجہ سے شوہر کے کلام "ایک طلاق، دو طلاق’ تین طلاق” میں بیوی کی طرف اضافت لفظ میں پائی جارہی ہے، کیوں کہ بیوی کے کلام:”بھاگ بھاگ کیوں کہتے ہو طلاق دے دو” میں بھی عبارت میں اضافت نہیں ہے( یعنی یہ نہیں کہا کہ مجھے طلاق دے دو)۔لیکن اگر "بھاگ بھاگ” کے صیغہ مخاطبہ کو قرینہ مان کر "طلاق دے دو” میں بھی اضافت مان لی جائے تب بھی جب شوہر نے بیوی کے مطالبہ کے جواب میں الفاظ طلاق(یعنی: "ایک طلاق دو طلاق تین طلاق”) سے پہلے یہ کہا کہ: "نیچے حجرے میں کوئی ہے تو بلاو” تو اس کلام کے سوالِ طلاق اور جواب میں فاصل ہونے کی وجہ سے عبارت میں اضافتِ طلاق متحقق نہ ہوئی۔اور یہ کلام جواب کے لیے متعین نہ رہ گیا۔ اس لیے اگر شوہر قسم کے ساتھ یہ کہے کہ میری مراد اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نہ تھی تو قسم کے ساتھ اس کی بات مان لی جائے گی۔ لیکن اگر وہ قسم کے ساتھ نیتِ اضافت کا انکار نہ کرتا ہو اور یہ کہتا ہو کہ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ طلاق کا لفظ بولنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نکاح کمزور پڑ جاتا ہے یا نشہ میں ہونے کا عذر کرے تو یہ سب ہرگز قابلِ قبول نہ ہوگا۔ اور تین طلاق پڑ جانے کا حکم ہوگا۔ فقیہ فقید المثال امام اہل سنت اعلی حضرت علیہ الرحمة والرضوان اضافت کے سلسلے میں بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

"فان قلت! لیس فی الھندیہ عن الذخیرۃ: سئل نجم الدین عمن قالت لہ امرأتہ: مرا برگ باتو باشیدن نیست، مراطلاق دہ ، فقال الزوج: چوں تو روی، طلاق دادہ شد، وقال: لم انو الطلاق، ھل یصدق؟ قال: نعم، و وافقہ فی ھذا الجواب بعض الائمۃ۔
وفیھا عن المحیط: سئل نجم الاسلام الفقیہ ابو نصر عن سکران ، قال لامرأتہ: أتریدین ان اطلقک؟ قالت: نعم، فقال بالفارسیۃ: اگرتو زن منی یک طلاق دوطلاق سہ طلاق، قومی اخرجی من عندی، وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق، فالقول قولہ اھ ومثلہ فی الخانیۃ معللاً بانہ لم یضف الطلاق الیھا۔اھ فلم یحکموا بالوقوع مع وجود الاضافۃ فی کلامھا، امافی فرع الامام نجم الدین فظاھر۔ واما فی فرع الفقیہ ابی نصر والخانیۃ، فلان قولھا نعم کان جوابا لقولہ "اتریدین ان اطلقک” ، فکانھا قالت: اریدان تطلقنی؟
قلت وباللہ التوفیق: المخاطب اذا اتی فی کلامہ بکلام اجنبی عن الجواب یخرج عن کونہ جواباً ، ویصیرکلاماً مبتدءً، ففی المسئلتین انما کان جواب قولھا ان یقول: "طلاق دادہ شد” او "یک طلاق ودو طلاق وسہ طلاق” ۔ ولو اقتصر علی ھذا لحکم بالوقوع من دون الحاجۃ الی نیۃ کماکان فی الفروع المتقدمۃ التی تلونا، لکنہ لما زاد قولہ "چوں تو روی” اوقولہ "اگرتو زن منی” لم یبق جوابا، وصار کلاماً مبتدأ، فلم تسر اضافۃ السوال الیہ، وقد نص علی ھذا الاصل العلماء کما لایخفی علی من خدم کلماتھم” (جد الممتار ۔ فتاوی رضویہ ج ۵ص٦٠٨)

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ درج ذیل صورتوں میں تینوں طلاقیں پڑجائیں گی:
(١) اگر "بھاگ بھاگ” بولنے سے طلاق کی نیت کی ہو اور "ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق” سے اپنی بیوی کی نیت سے نہ کہنے پر قسم نہ کھاتا ہو
(٢) اگر "بھاگ بھاگ” سے طلاق کی نیت نہ ہونا بتاتا ہو، مگر "ایک طلاق دو طلاق تین طلاق” سے اپنی بیوی کو طلاق کی نیت سےنہ کہنے پر قسم نہ کھاتا ہو۔
(٣) اگر مانتا ہو کہ یہ الفاظ(ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق) بیوی کے بارے میں تو کہے، مگر وہ نشہ میں تھا یا نہیں جانتا تھا کہ ان الفاظ سے طلاق ہوجاتی ہے۔

اور درج ذیل صورت میں صرف ایک طلاق بائن ہوگی:
اگر قسم کے ساتھ یہ کہے کہ”ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق” بول کر اپنی بیوی کو طلاق کی نیت نہ کی اور "بھاگ بھاگ” دونوں لفظ یا کسی ایک لفظ سےطلاق کی نیت کی۔

اور درج ذیل صورت میں ایک بھی طلاق واقع نہ ہوگی:
اگر یہ کہے کہ "بھاگ بھاگ” طلاق کی نیت سے نہ کہا اور قسم کے ساتھ یہ بھی بیان دے کہ "ایک طلاق دو طلاق تین طلاق” سے اپنی بیوی کو طلاق کی نیت نہ کی۔

حاصل یہ ہے کہ اگر شوہر اپنے قول "ایک طلاق، دو طلاق تین طلاق” کے بارے میں قسم کے ساتھ یہ بیان نہ دے کہ ان الفاظ سے اپنی بیوی کی نیت نہ کی تو تین طلاق واقع ہونے کا حکم ہوگا۔کیوں کہ ظاہر یہی ہے کہ الفاظِ طلاق بیوی کے لیے کہے جاتے ہیں۔لیکن اگر قسم کے ساتھ بیوی کی نیت نہ ہونا بیان کرےتو لفظ اور نیت کسی میں زوجہ کی طرف اضافت نہ ہونے کے سبب ان الفاظ سے وقوعِ طلاق کا حکم نہ ہوگا۔

اور اگر اپنے قول : "بھاگ بھاگ” کے بارے میں حلف کے ساتھ کہے کہ یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہ کہے تو طلاق کا حکم نہیں ہوگا اور یہ قسم گھر پر بھی لی جاسکتی ہے اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو قاضی شرع کے یہاں دعوائے طلاق دائر کیا جائے اگر قاضی کے مطالبہ یمین پر بھی قسم سے انکار کرے تو ایک طلاق بائن واقع ہونے کا حکم ہوگا اب قول "ایک طلاق۔۔۔” سے بیوی مراد نہ ہونے کے حلفی بیان نہ ہونے کی صورت میں بھی دو طلاق بائن پڑ کر تین طلاقیں ہوجائیں گی۔اور مجلس قضا کے بغیر قسم سے انکار (نکول) کی صورت میں کنایہ کے الفاظ سے طلاق کا حکم نہ ہوگا۔ فتاوی رضویہ کے درج ذیل سوال وجواب سے مذکورہ بالا مطالب واضح ہوجاتے ہیں۔اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے درج ذیل سوال ہوا:

"ایک شخص اپنی برادری میں کوئی بات لے کر آپس میں تنازع ہورہے تھے اس گفتگو میں وہ شخص کہنے لگا بھائی! میں ایک پریشانی اٹھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنی زوجہ کی سبب سے ہمیشہ پریشان ہوں کیونکہ وہ عورت میری باتوں میں دخل دیا کرتی ہے لہذا میں شرمندہ ہوں اُس وقت اُن کی ز وجہ گھر میں تھی میاں نے جو اپنی زوجہ کی شکایت کیا زوجہ نے از اول تا آخر سب سُنا ۔ زوجہ نے جواب دیا اگر میرے سبب تمہارے تکلیف اور ناگوار ہوتو مجھے نکال دو گے اور کیا کرو گے؟ زوج زوجہ کا کلام سُنتے ہی خفا ہوگیا اور کہا جا ایک طلاق دوطلاق تین طلاق دادم، آیا اس صورت مذکورہ میں وہ عورت تین طلاق سے مغلظہ ہوئی یا نہیں مگر طالق نہ مخاطب زوجہ کو ہوا نہ اُن کا نام لیا/ اور سوال میں جو لفظ”جا” مقولہ طالق ہے یہ معنی امر کی مقصود نہیں ہے بلکہ وُہ اپنے کلام میں اکثر یہ لفظ بولاکرتے ہیں معنی امر کے نہیں ہوتے ہیں باوجود ان وجوہات کے کیا حکم؟”
اس سوال کے جواب میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

"الجواب: اگر ”جا” سرے سے کلمہ خطاب نہ ہوتا یا حسبِ قولِ سائل یہ اُس کاتکیہ کلام ہے اس سے خطاب کا ارادہ نہیں کرتا، اور کلام مُطلّق کہ جواب زوجہ میں ہے اُس کے جواب میں بھی نہ ہوتا ابتداءً وہ اتنا ہی کہتا کہ ”تین طلاق دادم” جب بھی بلاشبہہ حکم مغلظہ دیا جاتا کہ طلاق دینے سے ظاہر زوجہ ہی کا ارادہ ہے ۔ ہاں ! از آں جا کہ کلامِ زوجہ میں سوالِ طلاق نہ تھا، نہ کلام زوج الفاظ ایک طلاق دو طلاق الخ عورت کی طرف اضافت ہے اور ”جا” احتمال مذکور سائل کے علاوہ خود کنایات سے ہے، صریح الفاظ سے نہیں کہ تقدم طلاق ہوکر خود مذاکرہ ثابت ہوجائے ان وجوہ سے عدم نیت کا احتمال باقی ہے اگر زوج بحلف شرعی کہہ دے کہ اُس نے نہ لفظـ”جا” بہ نیت طلاق کہا نہ ”طلاق دادم” سے زوجہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو اس کا قول مان لیں گے اور اصلاً طلاق نہ ہونے کا حکم دیں گے ۔ اگر جُھوٹا حلف کرے گا اپنے زنا اور زوجہ کے زنا کا سخت شدید وبال اس کی گردن پر ہے، اور اگر ان میں سے کسی بات پر حلف نہ کرے یا صرف امر دوم پر حلف نہ کرے تو تین طلاقیں ہوگئیں، بے حلالہ اُس کے نکاح میں نہیں آسکتی ۔ اور اگر امر دوم پر حلف کرلے کہ اس طلاق دادم سے عورت کو طلاق کی نیّت نہ تھی لیکن یہ حلف نہ کرے کہ لفظ ”جا” بہ نیت نہ کہا تو عورت اُسے حاکم کے یہاں پیش کرے اگر حاکم کے سامنے حلف کرلے گا کہ ”جا” بھی طلاق کی نیت سے نہ کہا تو حکمِ طلاق نہ ہوگا، اور اگر وہاں بھی اس پرحلف سے باز رہا تو تین طلاق ہوجانے کا حکم دیں گے۔

وذلک لان المطلوب فی اللفظ الثانی لعدم الحکم بالطلاق وجود الحلف بانہ لم ینو بہ الطلاق، فاذا لم یوجد ، حکم بہ۔ قال فی الخانیۃ والبزازیۃ قال لہا : لاتخرجی من الدار الا باذنی ، فانی حلف بالطلاق ، فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا، ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا، فالقول لہ ۔ اھ

فی ردالمحتار : یفھم منہ انہ لو لم یقل ذلک (ای لم یحلف انہ لم یرد بہ طلاقھا بل طلاق غیرھا) تطلق امرأتہ؛ لان العادۃ ان من لہ امرأۃ انما یحلف بطلاقھا ، لابطلاق غیرھا ، فقولہ انی حلفت بطلاق ینصرف الیھا، مالم یرد غیرھا؛ لانہ یحتمل کلامہ اھ وتمام تحقیقہ فیما علقناہ علیہ، والمطلوب فی اللفظ الاول لحکم الطلاق بہ نکولہ عن الحلف بانہ لم ینو بہ الطلاق ، والنکول لایکون الا عند القاضی، فاذا نکل عندہ ،حکم بالطلاق بہ۔ فحصلت الاضافہ فی کلامہ فحمل اللفظ الثانی من دون حاجۃ الٰی اقرارہ بالنیۃ لکونہ صریحا، قال فی الدر المختار من الکنایات’ والقول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ، ویکفی تحلیفھا فی منزلہ ، فان ابی رفعتہ للحاکم، فان نکل فرق بینھما، مجتبی۔ قال ط ثم ش فان نکل ای عندالقاضی لان النکول عند غیرہ لایعتبر”
( فتاوی رضویہ ج۵ ص ٦٣۵، ٦٣٦)

نیز اعلی حضرت علیہ الرحمہ کنایہ کے لفظ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
"اس سے پوچھا جائے اگر وُہ اقرار کرے کہ ہاں میں نے یہ لفظ بہ نیت طلاق کہا تھا تو جبھی سے طلاق ہوگئی جب سے اب تک اگر عورت کو تین حیض آکر ختم ہوگئے یا جب ختم ہوجائیں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے اور اگر وُہ نیتِ طلاق کا اقرار نہ کرے اس پر حلف رکھا جائے اگر حلف سے کہہ دے کہ میں نے ان لفظوں سے نیتِ طلاق نہ کی تھی تو ہرگز حکم طلاق نہ ہوگا۔درمختار میں ہےیکفی تحلیفھالہ فی منزلہ۔ اور اگر حلف سے انکار کرے تو شرعی نالش کی جائے کہ اس نے یہ الفاظ کہے ہیں اور ان سے طلاق کا احتمال ہے اگر وُہ حاکم کے سامنے بھی اس حلف سے انکار کرے تو طلاق ثابت ہوجائے گی اور عورت بعد عدت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی اور اگر وہاں حلف کرلیا تو طلاق ثابت نہ ہوگی، اگر جُھوٹی حلف یہاں یا وہاں کیا تو وبال اس پر ہے۔”(فتاوی رضویہ ج۵ ص٧۴٨)

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ: علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
٦/ربیع الآخر ١۴۴٣ھ//١٢/نومبر ٢٠٢١ء

Leave a Reply