کیا اہل باطل کا رد ہرفرد مسلم پر ضروری ہے؟

کیا اہل باطل کا رد ہرفرد مسلم پر ضروری ہے؟

سوال: کیا اہل باطل کا رد ہرفرد مسلم پر ضروری ہے؟ اگر ایسا ہے تو بیچارے عوام کیسے رد کریں گے کیا یہ ان کے بس میں ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ

ردو انکارتوسب پر ضروری ہے مگر شریعت طاہرہ نے ہر ایک کو ایسے ہی رد کا مکلف اور ذمہ دار کیا ہے جو اس کے بس میں ہو

صحابی رسول حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد

فرمایا : تم میں سے جو کوئی شخص خدا اور رسول کی معصیت و نافرمانی کا کوئی کام دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل

دے یعنی روک دے، اگر یہ بس میں نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے اور اگر یہ بھی بس میں نہ ہو تو دل سے اسے برا جانے اور یہ

ایمان کا کمزور حصہ ہے ۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ معصیت کو ہاتھ سے روک دینا اور اس پر پابندی لگا دینا حکام کی ذمہ داری ہے اور زبان سے روکنا

علماء کی ذمہ داری ہے اور دل سے برا جاننا عوام الناس کی ذمہ داری ہے ۔

یہاں سے واضح ہوا کہ شریعت مطہرہ نے حکام اور علماء اور عوام پر رد اور انکار کی بس اتنی ہی ذمہ داری عائد کی ہے جو ان

کے بس میں ہے لہذا جو جس طرح کے رد اور انکار کا مکلف اور ذمہ دار ہے وہ اسے بجا لائے ۔

واللہ تعالی اعلم ۔

کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Leave a Reply

%d bloggers like this: