بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ؟ بیٹھ کر تکبیر تحریمہ اور رکوع و سجود کیسے کریں ؟

بیٹھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ؟ بیٹھ کر تکبیر تحریمہ اور رکوع و سجود کیسے کریں ؟

کیا فرماتے علماے دین کہ (1)جب بیٹھ کر نماز ادا کی جاے تو تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانے کی کیا کیفیت ہونی چاہیے ۔ بہت سارے لوگ آگے کو سر جھکا کر تکبیر تحریمہ کہتے ہیں صحیح طریقہ کیا ہے واضح فرمائیں ۔
(2) ایسے ہی بہت سارے لوگ جب بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں تو رکوع اس طرح کرتے ہیں کہ سجدہ کے مقابل ہوجاتے اور سرین اٹھا دیتے ہیں ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ بیٹھ کر رکوع کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے ۔ اور سرین اٹھانا کیسا ہے ؟ بیان فرماکر عند اللہ ماجور ہوں ۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1) بیٹھ کر تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانے کا صحیح اور درست طریقہ یہ ہے کہ سیدھے بیٹھ کر تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھائے اگر تکبیر تحریمہ کے لیے آگے کو اتنا جھک گیا جتنا کہ رکوع کے لیے جھکا جاتا ہے تو نماز نہیں ہوگی ۔

ردالمحتار میں ہے :
” وکذا لو شرع منحیا قریبا من الرکوع لا یصح ” اھ
(ردالمحتار مع الدرالمختار : ج: 2، ص: 584، کتاب الصلاہ، باب: الوتر والنوافل، مبحث : المسائل الستۃ عشریۃ )

بہار شریعت میں ہے :
” اگر رکوع کی حد تک جھک کر نفل کا تحریمہ باندھا تو نماز نہ ہوگی ” اھ
(بہار شریعت : ج: 1، ح:4، ص: 671 ، سنن و نوافل کا بیان )

واللہ تعالٰی اعلم

(2) بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے تو رکوع کا متوسط ومکمل طریقہ یہ ہے کہ پیشانی کو گھٹنوں کے مقابل کرے اور سرین نہ اٹھائے ۔ سرین اٹھا کر رکوع کرنا عبث وبیجا اور مکروہ تنزیہی ہے ۔

ردالمحتار میں ہے:
” وفی حاشیۃ الفتال عن برجندی : ولو کان یصلی قاعدا ینبغی ان یحاذی جبھتہ قدام رکبتیہ لیحصل الرکوع اھ .قلت : ولعلہ محمول علی تمام الرکوع، والا فقد علمت حصولہ باصل طأطأةالراس: ای : مع انحناء الظھر. فتامل” اھ
ترجمہ : برجندی کے حوالے سے حاشیۃ الفتال میں ہے "اگر کوئی بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہو تو وہ اپنی پیشانی کو گھٹنوں کے برابر جھکائے تاکہ رکوع حاصل ہوجائے”( علامہ شامی نے فرمایا ) میں کہتا ہوں : شاید یہ تمام رکوع پر محمول ہو کیوں کہ آپ جان چکے ہیں کہ رکوع سر کو صرف جھکادینے سے یعنی ساتھ کچھ پیٹھ کو جھکانے سے ادا ہوجاتا ہے، غور کرو۔
(ردالمحتار مع الدرالمختار : ج: 2، ص: 167، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاة )

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا کہ نفل نماز بیٹھ کر ادا کرے تو رکوع کس طرح کریں سرین اٹھائیں کہ نہیں تو آپ نے اس کا جواب اس طور پر عنایت فرمایا:
” رکوع میں قدر واجب تو اس قدر ہے کہ سر جھکائے اور پیٹھ کو قدرے خم دے مگر بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کا درجئہ کمال وطریقئہ اعتدال یہ ہے کہ پیشانی جھک کر گھٹنوں کے مقابل آجائے اس قدر کے لیے سرین اٹھانے کی حاجت نہیں تو قدر اعتدال سے جس قدر زائد ہوگا وہ عبث وبیجا میں داخل ہوگا ” اھ
(الفتاوی الرضویۃ: ج: 6، ص: 157 باب: صفۃ الصلاۃ ) والله تعالٰی اعلم

 عبدالقادر المصباحی الجامعی
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا
   ١٤ جمادي الاوّل ١٤٤٣ھ

Leave a Reply