آرٹیفیشل جیولری یعنی سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے زیورات عورت کے لئے پہننا کیسا ہے؟

آرٹیفیشل جیولری یعنی سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے زیورات عورت کے لئے پہننا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ

فی زمانہ عمومِ بَلْویٰ کی وجہ سے سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کے زیورات یعنی آرٹیفیشل جیولری عورتوں کے لئے پہننا جائز ہے اور ان کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اور ان کو پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے البتہ بہتر ہے کہ ان کو اتار کر نماز پڑھی جائے البتہ بعض علمائے کرام اب بھی اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور وہ اس حدیثِ مبارکہ سے دلیل پکڑتے ہیں جس حدیث میں یہ ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد سے جس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی فرمایا :

"مالی اجد منک ریح الاصنام فطرحہ ثم جاء وعلیہ خاتم من حدید فقال مالی اری علیک حلیۃ اھل النار فطرحہ فقال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم من ای شئی اتخذہ ؟ قال من ورق ولا تتمہ مثقالا "

کہ کیا بات ہے کہ میں تجھ سے بتوں کی بو پاتا ہوں اس نے وہ انگوٹھی اتار دی پھر آیا تو لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں تجھ پر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں اس نے وہ بھی اتار دی اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں تو فرمایا چاندی کی انگوٹھی بناؤ اور ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشے پورے نہ کرنا”.

(مشکاۃ المصابیح صفحہ 391 مکتبہ رحمانیہ)

اور سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس حدیث مبارکہ سے مرد و عورت دونوں کے لئے حرمت ثابت کرتے ہیں.
چنانچہ فرماتے ہیں :
"چاندی سونے کے سوا لوہے, پیتل, رانگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں چہ جائیکہ مردوں کے لئے.”

(فتاوی رضویہ جلد22 صفحہ 153 رضافاؤنڈیشن لاہور)

اور ایسے ہی علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
"وفی الجوھرۃ: التختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء”
"جوہرہ کتاب میں ہے کہ لوہے پیتل تانبے اور قلعی کی انگوٹھی مردوں اور عورتوں کو پہننا مکروہ ہے.”

(فتاوی شامی کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی اللبس جلد 9 صفحہ 594 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

لیکن فی زمانہ عمومِ بَلْویٰ ہوچکا ہے کہ ہر عام وخاص , امیر و غریب , عوام اور علماءِ کرام کی عورتیں آرٹیفیشل جیولری استعمال کرتی ہیں لہذا عمومِ بلویٰ کا اعتبار کرتے ہوئے مشکوٰۃ شریف کی حدیث مبارکہ کو مردوں کے لئے خاص کر دیا جائے گا اورعورتوں کے لئے جائز ہونے کا حکم ہو گا.

جیسا کہ الاشباہ والنظائر میں ہے :
"ذَکَرَ بَعْضُھُمْ اَنَّ الْاَمْرَ اِذَا ضَاقَ اِتَّسَعَ”
یعنی بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے.
(الاشباہ والنظائر القاعدۃ الرابعہ صفحہ 84 میر محمد کتب خانہ کراچی)
اور سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

"ان عموم البلوی من موجبات التخفیف شرعا ولایخفی علی خادم الفقہ ان ھذا کما ھو جار فی باب الطھارۃ والنجاسۃ کذلک فی باب الاباحۃ والحرمۃ”
یعنی عمومِ بلوی ازروئے شرع باعثِ تخفیف ہے اور خادمِ فقہ پر پوشیدہ نہیں ہے کہ یہ جس طرح طہارت و نجاست کے باب میں اثرانداز ہے اسی طرح اباحت وحرمت کے باب میں بھی اثر انداز ہے.

(فتاوی رضویہ جلد 10صفحہ 43 رضا اکیڈمی ممبئی)
مزید ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :

"وعموم البلوی من موجبات التخفیف حتی من موضع النص القطعی”

یعنی اور عمومِ بلوی اسبابِ تخفیف سے ہے یہاں تک کہ جس چیز کے بارے میں نصِ قطعی وارد ہے اس میں بھی یہ باعثِ تخفیف ہے ۔

(فتاوی رضویہ جلد2 صفحہ 49 رضا اکیڈمی ممبئی)

لہذا عمومِ بلویٰ کی وجہ سے عورتوں کے لیے آرٹیفیشل جیولری کا استعمال جائز ہے بلکہ اس پر فتاویٰ عالمگیری کا جزیہ بھی موجود ہے جس میں اس کے جائز ہونے کی صراحت موجود ہے:

"لاباس للنساء بتعلیق الخرز فی شعورھن من صفراء او نحاس او شبہ او حدید او نحوھا للزینۃ او سوار منھا”

"عورت کا زینت کی وجہ سے پیتل تانبے یا لوہے وغیرہ کی چٹیا بنا کر بالوں میں لٹکانا یا انکی کنگن بنا کر پہننا, اس میں کوئی حرج نہیں.”

(فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 439 قدیمی کتب خانہ)

فائدہ: عمومِ بلویٰ سے مراد وہ امر ہے کہ بلادِکثیرہ (یعنی کثیر شہروں) میں کثرت کے ساتھ رائج ہو, عوام و خواص سبھی اس میں مبتلا ہوں اور اس سے بچنا دشوار اور باعثِ حرج ہو ۔

(ہمارےمسائل اور ان کاحل جلد2 صفحہ 140 بحوالہ:صحیفہ فقہ اسلامی)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: