عقیدۂ ختم نبوت تصانیف رضا کی روشنی میں

عقیدۂ ختم نبوت تصانیف رضا کی روشنی میں
از سید اولادرسول قدسی، نیویارک ، امریکہ

(۱) سرور عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء بمعنی آخر الانبیاہونا ایسا قطعی ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس پر نص قرآنی دال ہے بلکہ صحاح کی بکثرت احادیث جو حد تواترتک پہنچی ہیں باضابطہ وضاحت وصراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ، اس سلسلے میں امام احمد رضا قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں ، مسلمان پر جس طرح لاالہ الااللہ ماننا اللہ سبحانہ کو احد صمد لاشریک جاننا فرض اول وبناء ایمان ہے یونہی محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقیناً قطعًا محال وباطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے ولکن رسول اللہ وخاتم النبین رضا قطعی قرآن ہے ۔ اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہہ کرنے والانہ شاک کہ ادنیٰ ضعف احتمال خفیف سے توہم خلاف سکھنے والاقطعاً اجماعًا کافر ملعون محفدفی النیران ہے نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع پر ہوکر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر جو اس کا کافر ین میں شک وتر دوکوراہ دے وہ بھی کافر ہے ۔(خاتم النبین: ص۶)
قرآن مقدس کے بائیسویں پارہ کے سورۂ احزاب کی چالیسویں آیت ختمی مرتبت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خاتمیت یوں بیان کرتی ہے ’’مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۔ یعنی محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔مذکورہ آیت صراحتاً یہ بتاتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ملےگی ۔ اس آیت کی تناظر میں یہ نہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو قیامت سے پہلے آسمان سے روئے زمین پر نزول فرمائیںگے وہ بھی تو نبی ہیں پھر رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیا ہونا کیوںکر ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں مگر نزول کےبعد وہ اپنی شریعت سابقہ پر نہیں بلکہ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی شریعت مطہرہ کی روشنی میں احکام نافذ کریںگے اور تبلیغ امور انجام دیںگے ، اس پرمستزاد یہ کہ رسول دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے قبلہ کعبۃ اللہ کی طرف رخ کرکے نمازیں ادا فرمائیںگے۔
سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اس قدر مسلم ہے کہ رب کائنات نے لوح محفوظ پر جہاں مخلوقات کی تقدیر لکھی وہیں یہ بھی تحریر فرمائی کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین یعنی سب نبیوں میں آخر ہیں ۔ جیسا کہ صحیحین شریفین میں حضرت عبد اللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان اللہ عزوجل کتب الله مقادیر الخلائق قبل أن یخلق السماوات والارض بخمسین آلفا سنة وکان عرشہ علی الماء ومن جملۃ ماکتب فی الذکر وھوام الکتاب ان محمدا خاتم النبیین۔
یعنی اللہ عزوجل نے زمین وآسمان کی آفرینش سے پچاس ہزار برس پہلے خلق کی تقدیر لکھی اور اس کا عرش پانی پر تھا منجملہ ان تحریرات کے لوح محفوظ میں لکھا بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہاں تک روایت ہے کہ پہلے انسان اور اللہ کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان قلم قدرت سے لکھا ہوا تھا ’’محمد رسول اللہ خاتم النبیین ‘‘ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔
بیہقی شریف کے اندر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ ایسی حدیث جلوہ ریز ہے کہ جس میں حضرت آدم علیہ السلام کی قبولیت توبہ کے وقت رب کائنات نے جہاں اپنے نبی حضرت آدم علیہ السلام سےیہ فرمایا’’ولا محمد ماخلقتک یعنی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو اے آدم میں تیری بھی تخلیق نہیں۔۔۔۔عربی pdf کے صفحہ نمبر ۲۔۔۔۔یعنی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تیری اولاد میں سب سے پچھلے نبی ہیں۔آئیے حدیث وتفسیر کی روشنی میں پورا واقعہ اختصار کے ساتھ ملاحظہ کریں اور اپنےایمان کو جلا بخشیں۔
حضرت آدم علیہ السلام نے جب جنت میں رہائش کے زمان میں شجر ممنوعہ کا پھل تناول فرمایا تو رب کے حکم سے آپ زمین پر تشریف لے آئے، یہاں آنے کےبعداپنی لغزش پر متواتر تین سو سال تک اشک بار رہے اور رب قدیر کی بارگاہ میں توبہ کرتےرہے مگر ان کی توبہ شرف قبولیت سےہمکنارنہ ہوئی ۔ تین سو سال کےبعد آپ کو اللہ کے حبیب مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خیال آیا اور ان کے وسیلۂ جلیلہ سےبارگاہ خداوندی میں یوں عرض گزار ہوئے’’ یارب اسالک بحق محمد ان غفرت لی‘‘یعنی اے میرے رب تجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت فرمادے۔ ایسے موقع پر خدا وند قدوس نے فرمایا: اے آدم ! تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت کیسے حاصل ہوئی جب کہ وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا بارالہٰ ! میں تو انہیں جانتا نہیں تھا لیکن جب تو نے میرے جسم میں روح پھونک کر تخلیق مکمل فرمائی تو میں نے عرش کی جانب سر اٹھا کر دیکھا تو اس کے پایوں پر لکھا ہوا تھا ’’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ تو پھر مجھے یہ سمجھتے دیر نہ لگی کہ جس ذات بابرکات کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملایا یقیناً وہ تیرا سب سے زیادہ محبوب ہے۔ رب قدیر نے فرمایا ’’صدقت یااٰدم انہ احب الخلق الی واذسالتنی بحقہ فقدغفرت لک ولو لا محمد ماخلقتک وھو اٰخرالانبیاء من ذریتک ‘‘یعنی اے آدم ! تو نے سچ کہا بلاشبہہ وہ میرے لئے احب الخلق یعنی تمام جہان سے زیادہ محبوب ہے اب چونکہ تو نے میرے محبوب کا واسطہ دیا ہے تو میں نے تیری توبہ قبول کی اور تجھے مغفرت کا پروانہ عطا کیا ، اگر محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا اور یہ محمد تیری اولاد میں سب سے پچھلے نبی ہیں۔
رسول گرامی قدر صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیا ہونا اس قدر واضح ومشہور ہے کہ صرف یہ کہ قرآن مقدس ، لوح محفوظ اور حضرت آدم علیہ السلام کے شانوں کے درمیان مکتوب مرقوم ہے بلکہ دیگر آسمانی کتب وصحائف کے اندر بھی جلی حروف کے ساتھ یہ متدرج ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ یہ نبوت کا تمام واختتام ہوچکا ۔ میرے اس دعوے کی پشت پناہ سید اعلیٰ حضرت کی نقل کردہ ابن عساکر کی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی مروی حدیث ہے۔ ’’قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یسمیٰ فی الکتب القدیمۃ احمد ومحمد والماحی والمقفی ونبی الملاحم وحمطایا وفارقلیفا وماذماذ۔یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگلی کتابوں میں میرے یہ نام مکتوب تھے احمد ، محمد ، الماحی ، المقفی، نبی الملاحم، حمفایا، فارقلیطا، ماذماذ۔
اب آپ ان ناموں کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں۔
احمد۔ بہت تعریف کرنےوالا۔محمد :جن کی خوب خوب تعریف کی جائے۔ ماحی: کفر وشر ک کو مٹانے والا۔نبی الملاحم: جہادوں کے پیغمبر ۔حمطایا: حرام الہیٰ کے حمایتی۔ فارقلیطا: حق کا باطل سے جدا کرنے والا۔ماذماذ: ستھریا کیزہـ۔ المقفی کا معنیٰ ہے سب پیغمبروں کے پیچھے تشریف لانے والے۔
کتب سماویہ کے اندر رسول وقار صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب اسم گرامی مقفی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کوئی نو زائیدہ مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جسے کتب سماویہ نے بھی اپنے سینے میں محفوظ کر رکھا ہے۔
یہ تو کتب سماویہ کی بات تھی اب آیئے صحائف کے بھی زریں اور اق پر نظر ڈالیں ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جناب عامر ثعبی سے روایت فرماتے ہیں کہ ابو الانبیا حضرت ابراھیم علیہ السلام کےمقدس صحیفے ہیں رسول دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیا ہونا درج تھا جیسا کہ صحیفۂ سیدنا ابراھیم علیہ السلام میں یوں مرقوم تھا کہ رب کائنات نے اپنے خلیل علیہ السلام سےفرمایا ’’ انہ کان من ولدک شعوب حتیٰ یاتی النبی الافی خاتم الانبیا یعنی بے شک تیری اولاد میں قبائل درقبائل ہوںگے یہاں تک کہ نبی امی خاتم الانبیا جلوہ فرما ہوں ۔ علاوہ ازیں محمد بن کعب قرظی روایت فرماتے ہیں ’’اوحی اللہ تعالیٰ الی یعقوب انی ابعث من ذریتک ملوکا وانبیاء حتیٰ ابعث النبی الحرمی الذی تبنی امنہ ھیکل بیت المقدس وھو خاتم الانبیاء واسمہ احمد‘‘یعنی نبیرۂ ابو الانبیاحضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام کو طرف اللہ تبارک وتعالیٰ نےوحی بھیجی کہ اے یعقوب ! میں تیری اولاد میں سلاطین وانبیا بھیجتا رہوں گا یہا ں تکہ مبعوث فرماؤں اس حرم محترم والےنبی کو امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائےگی وہ سب پیغمبروں کا خاتم ہے اور اس کی نام احمد ہے (صلی اللہ علیہ وسلم )
حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مایۂ ناز صحابی ہیں وہ پہلے جہاں نہ صرف یہ کہ یہودی تھے بلکہ خود یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے وہیں ان کے والد اپنے زمانے میں اعلم علماء تو راۃ یعنی تو ریت کے جاننے والوں میں سب سے بڑے جاننےوالےگردانے جاتے تھے ۔ حضرت کعب احبار حلقہ بگوش اسلام ہونےکے بعد جو بیان فرمایا وہ روح پرور اور ایمان افروز ہونےکےساتھ ساتھ اس بات پر غماز ہے کہ رسول کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعثت سےپہلےبھی علماء تو رات و انجیل و زبور بھی جانتےتھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خاکدان گیتی میں آخری نبی بن کر جلوہ افروز ہوںگے ۔
حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد علماء توراۃ میں سب سے بڑے عالم تھے ۔ ان کا سینہ علم ومعرفت کا گنجینہ تھا۔وہ مجھ سے بے پناہ محبت وشفقت فرماتےتھے اور اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے کبھی چھپایا نہیں کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ میں بھی علم وفضل میں یکتا ئے روز گار بنوں ، میری حیرت کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب ان کا آخری وقت آپہنچا۔ ہوایوں کہ موت سے پہلے انہوںنے مجھے بڑے پیار سے قریب بلایا اور فرمانےلگے کہ اےمیرے پیارے بیٹے! تو اچھی طرح جانتا ہے کہ میں اپنی معلومات میں سے کوئی شئی ذرہ برابر بھی تجھ سے مخفی نہیں رکھی۔ رب بفضلہ تعالیٰ اب تیرا سینہ علوم ومعارف کا ایک بہتا دریا بن چکا ہے۔ میں نے تازندگی اشاعت علم میں کسی قسم کی بخالت سے کام نہیں لیا۔ اس کی واحد اور بڑی اہم وجہ یہ رہی کہ میں چاہتا تھا کہ میرا بیٹا بھی اپنے وقت کا ایک جید اور لائق وفاق ماہر علوم وفنون ہو۔ لیکن دو ورق تجھ سے روک رکھا ۔ اس کی بارے میں اس کی قبل میں نے کہیں تجھے کچھ نہ بتایا۔ نہ بتانے کیوجہ بخل یا اخفا نہیں بلکہ قبل ازوقت اور اندیشہ وخدشہ مانع رہے ۔ اب چونکہ میں بستر مرگ پر ہوں ۔ جانے کب آجائے پبک اجل کس کو ہے خبر ، اگر میں نےموت سے پہلے تجھے یہ بات نہ بتائی تو پھر میں خود کو بھی معاف نہیں کرپاؤں گا، مزید برآں تو ایک ایسی عظیم نعمت سےمحروم ہوجائےگاجس کےدامن میں اخروی فلاح اور بہار جنت مضمر ہے۔
لہٰذا اب میرے بیٹے میری بات غور سے سن اور میری موت کےبعد میرے کہا پر عمل کرنے میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کرنا ، دراصل بات یہ ہے کہ میرے پاس دو بڑی ہی اہم ورق ہیں جن میں ایک نبی سے متعلق بہت ہی کار آمد اور نفع بخش رہی باتیں مندرج ہیں جو تیری دنیا وآخرت کی بہبودی کی ضامن ہیں، سچ تو یہ ہے کہ میں نھے کئی بار چاہا میرا ضمیر مجھے پیہم اصرار کرتا رہا ، میری خواہش مجھے بارع بررگیختہ کرتی رہی کہ میںاس راز کی اہمیت وافا دیت سےمتعلق تمہیں باور کرادوں اور فوراً سے پیشتر اسے منکشت کر دوں لیکن جب جب میں نے انکشاف کی ہمت کی مگر میرے سامنے یہ اندیشہ مانع رہا کہ مباد کوئی کذآب مدعی نکل کھڑا رہو اور تو اس متنبی کو سچا جان کر اس کی پیروی کرلے۔ اسے نبیٔ آخر الزماں مان کر اپنے ایمان عقیدے کا سودا کرلے، اپنے دین ودنیا کو تو ہلاکت کے دہانے تک پہنچادے ، رب کائنات نےقہر وغضب کا سودا کرلے، اپنےدین ودنیا کو ہلاکت کے دہانے تک پہنچادے۔ ہاتھ کی کلہاڑی تو اپنے پاؤں پر مارلے لہٰذا اب چونکہ دنیا کو دائمی خیر باد کہنےکا میرا وقت آپہنچاہے میری زندگی کا چراغ ہمیشہ کےلئے گل ہونے والا ہے میری روح قبض عنصریس ے پرواز کرنےکےلئے اپنے پر تول رہی ہے اس لئےمیں تجھے بتا رہا ہوں کہ دیکھ تیرےسامنے جو طاق ہے اس میں وہ اوراق رکھ کر میں نے ان کے اوپر مٹی لگا دی ہے۔ ابھی اسے چھیڑنا نہیں جب نبی آخر الزماں اس منصۂ شہود میں جلوہ افروز ہوجائیں تو ان اوراق کو پڑھ کر خاتم الانبیا کی بارگاہ میں پہنچ کر ان پر ایمان لے آنا اور تاحیات چاہے حالات کتنے ہی کشیدہ ہوں ان کا بہر صورت پیرو کار بن کر رہنا۔
حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد کے انتقال کے بعد جب میں طاق سے وہ اوراق نکالے تو میں نے دیکھا کہ ان میں بڑی وضاحت و صراحت کےساتھ لکھا ہو ا تھا۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین لانبی بعدہ ملودہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ ۔یعنی محمدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کی جائے پیدائش مکہ ہے اور ہجرت گاہ مدینہ۔
رسول گرامی قدر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آخر الانبیا ہیں ، آپ پر نبوت تمام ہو چکی اور آپ کے بعد قیامت تک کسی دوسرے نبی (خواہ مستقل ہویا ظلی بروز ماتحتی) کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث جو ابو داؤ د اور ترمذی کے اند رموجد ہے اس میں سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہ صرف خود کاتم النبیین بلکہ علی وجہ بصیرت مزید صراحتًا لائے نفی جنس کے ساتھ لانبی بعدی بھی فرمایا ، حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا خاتم النبیین لانبی بعدی‘‘ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا کہ میں نبیوں میں خاتم ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، اس طرح مسلم شریف میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا ’’ختم بی الرسل ‘‘یعنی مجھ پر رسولوں کا سلسلہ ختم کردیاگیا۔
اس سےپہلے راقم الحروف نے وہ حدیث بھی پیش کی جس میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کےمطابق حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کےدرمیان مکتوب تھا محمد رسول اللہ خاتم النبیین لگے یاتھ مشکوٰۃ شریف میں مندرج حضرت عرباض رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں ’’انہ قال انی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین وان اٰدم لمجدیل فی طین ‘‘یعنی حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایا میں عند اللہ اس وقت خاتم النبیین لکھا گیا جب حضرت آدم علیہ السلام اپنی گندھی ہوا مئی میں تھے۔ بلفظ دیگر ان کی تخلیق مکمل بھی نہیں ہوئی تھی۔
مذکورہ بالا دلائل و شواہد کےباوجود ختمی مرتبت سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کےختم نبوت کا وہی انکار کرےگا جو قرآن وحدیث سےنا بلا ہو یا پھر ہٹ دھرمی کا شکار ہو ، اس سے پہلے سید اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کا قول پیش کیا جاچکا ہے کہ مسئلۂ ختم نبوت اس قدر اہم ہے کہ سرکار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کےبعد کی نبی جدید کی بعثت کو یقیناً محال وباطل جاننا ایک مسلمان کےلئے ایسےہی فرض ہے جیسے لاالہ الااللہ پر ایمان رکھنا۔
اس سلسلے میں آیئے خطیب بغدادی کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ مندرجہ ذیل حدیث بطور اختصار ملاحظہ کریں جس کا تعلق واقعۂ معراج سے ہے ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتا ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے واقعۂ معراج کے ضمن میں ارشاد فرمایا’’ لما اسری بی قربنی ربی حتیٰ کا ن بینی وبینہ کقاب قوسین اوادنیٰ وقال لی یا محمد ھل غمک ان یعتک اٰخرالنبیین قلت لا قال محفل غم امتک ان جعلتھم آخر الامم قلنا لا۔یعنی رب کائنات نےشب معراج مجھے اتنا قریب کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمان بلکہ اس سےبھی کم کا فاصلہ رہ گیا تو ایے روح یہ در موقع پر میرے رب نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں اس بات کا غم ہےکہ میں نے تمہیں آخر النبیین یعنی سارے نبیوں میں آخری نبی بنایا ؟ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رب قدری کی بارگاہ میں عرض کی الٰہ العالمین ! نہیں مجھے اس بات کا کوئی غم نہیں ہے ، پھر رب کائنات نے آپ سے فرمایا کیا تمہاری امت کو اس بات کا رنج وملال ہے کہ میں ے اسے ساری سابق امتوں کےبعد آخری امت بنایا ، آپ نے عرض کی بارالہٰ ! نہیں میری امت کو بھی اس بات کا کوئی رنج وملال نہیں۔
اتنا بیان کرنے کے بعد رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوباتیں ارشاد فرمائیں وہ انتہائی کیف آگیں ہیں pdf پیچ نمبر ۸میں۔کےپہلوبہ پہلو بے حد ایمان افروز بھی ہیں ، آپ فرماتے ہیں کہ جب میں نے خداوند قدوس کے سوال پر نفی میں جواب دیا کہ نہ مجھے اس بات کا غم ہے کہ تو نےمجھے آخر الانبیا بنا کر خادانی گیتی میں مبعوث فرمایا اور نہ میر امت کو اس بات پر کسی قسم کا رنج وقلت ہے کہ اسے تو نے آخری امت بنایا تو رب قدیر نے اس کی وجہ خود یوں بیان فرمایا ’’ انی جعلتھم اٰخر الامم لافضع الام عند ھم ولا افضحھم عند الامم‘‘یعنی میرے حبیب! میں نے تمہاری امت کو اس لئے آخری امت بنایا کہ سابق امتوں کو ان کےسامنے رسوا کروں اور اسے اوروں کے سامنے رسوائی سےمحفوظ رکھو۔
مذکورہ بالاحدیث پاک سے جہاں یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ رسول کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آخری نبی اور آپ کی امت آخری امت ہے وہیں یہ امر بھی واضح ہوگیا کہ رب کائنات کو اپنے حبیب لبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت سے کس قدر محبت ہے ۔ رب کائنات نے یہ نہ چاہا کہ حبیب کی امت کس کے سامنے رسوا ہو اور اس کےعیب سےکوئی اور واقف ہو ، خدالم یزل وبے نیاز کے اس کرم کو دیکھتے ہوئے امید واثق رکھی جاسکتی ہے کہ جب رب قدیر کو یہ نہ گوارا ہوا کہ اس کےحبیب کی امت کے عیوب کو کوئی جانے اور اسے دنیا میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے تو پھر قیامت کےدن بھی ارحم الرٰحمین جو ستارالعیوب اور غفار الذنوب ہے ہمارے عیوب کی پردہ پوشی فرمائےگا اور اہل محشر کی سامنے ہمیں ندامت سےمحفوظ رکھے گا ، ا س امید واثق کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے رحیم وکریم خدا اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کےاحکامات پر سربہ خم رہیں اور ہم خود کو عمل میدان کا شہسوار بنائیں۔
ختم نبوت سے متلعق ایک بتین ومیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث سے بھر ملتی ہے جس میں رسول الملائکہ حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام کا وہ بیان مذکورہے جس میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق رب قدیر کےارشادات موجود ہیں ، حضرت جبریل علیہ السلام نے رسول وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سب سے پہلے خلاق کائنات کا یہ ارشاد پیش کیا یا رسول اللہ ! ان ربک ویفول قل ختمت بدع الانبیاء‘‘یعنی آپ کا رب فرماتا ہے کہ میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا یعنی آپ خاتم الانبیا ہیں اس ارشاد کےبعد آپ نے خدا وند قدوس کے دیگر ارشادات جو پیش کئے ان کے حرف حرف سے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال عظمت شان ظاہر ہوتی ہے ، رب کریم نے مزید فرمایا
’’ما خلقت خلقاً أكرم على منك، و قرنت اسمك مع اسمى فلا أذكر في موضع حتى تذكر معى، ولقد خلقت الدنيا وأهلها لأعرفهم كرامتك على ومنزلتك عندي ولولاك ماخلقت السمٰوٰت والارض‘‘ یعنی میں نے کوئی ایسی مخلوق نہیں بنائی جو میرے حبیب سےزیادہ مری بارگاہ میں صاحب عزت ہو ، میں نےاپنے حبیب کا نام اپنے نام سے ملایا تاکہ جہاں میرا ذکر ہو وہیں ان کا بھی ذکر ہو ، میں نے دنیا اور اہل دنیا سب کچھ اس لئے بنیا کہ میرے حبیب کا مرتبہ ان سب پر ظاہر کروں۔ اگر میرے حبیب نہ ہوتے تو میں زمین و آسمان کو بھی پیدا نہ کرتا۔
علاوہ ازیں حدیث شفاعت جو بہت ہی طویل ہے اس کے اندر بھی روح اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قوم مرقوم ہے کہ کل بروز قیامت جب اہل محشر قیامت کی ہوںگے ، سوا نیزے سر کے اوپر سورج کی یہ شدت ناقابل برداشت تماز ت کی تاب نہ لاکر رہی محشر نہ صرف یہ کہ پسینےسے شرابور ہوںگے بلکہ پسینوں کی ندی میں نہار ہے ہوںگے تو ایسے جانگاہ اور جان گسل موقو پر اسارے اہل محشر ان میں وہ سب بھی شامل ہوںگے جو دنیا میں میں شفاعت اور وسیلے کےمنکررہے ہوںگے یکجا ہوکر ہر نبی کی بارگاہ فیض میں شفاعت کی درخواست پیش کریںگے اور یہ کہتےہوئے گڑ گڑائیںگے کہ خدا را ہماری شفاعت فرماکر ان کٹھنائیوں سے ہمیں راحت دلادیں تو ہر نبی’’اذھبو الی غیری‘‘یعن میرے علاوہ کس اور کے پاس جاؤ کہہ کہ دوسرے نبی کے پاس بھیج دیںگے بالآخر مایوس ہو کر جب اہل محشر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر شفاعت کے خواستگار ہوںگے تو آپ پر ملا فرمائیںگے میں اس منصب کا نہیں ’’الی اتخذت لھامن دون اللہ وانہ لایھمنی الیوم الانفسی ‘‘ یعنی مجھے لوگوں نے اللہ کے سوا خدا بنایا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے ، لہٰذا مرشد والو! اگر شفاعت چاہتے ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاؤ جو خاتم النبیین ہیں ،یہ سنتے ہی محشر والوں کی خوشیوں کا ٹھکانہ ہ رہےگا ، مسرت وشادمانی سے دلوں کی باچھیر کھل اٹھیں گی۔
سارےکے سارے شاداں وفرحاں دوڑے ہوئے بڑی تیزی کےساتھ جب خاتم النبیین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم کےحضور حاضر ہوںگےتو آپ فرمائیںگے ’’انا لھا‘‘یعنی میں تمہاری شفاعت کے لئے ہوں ۔ آج میری شفاعت سے تمہیں محشر کی جانگاہی سےنجات کا پروانہ ملےگا۔
فقط حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی بروز قیامت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےلئےخاتم النبیین نہیں فرمائیںگے بلکہ اس حدیث شفاعت میں بڑی وضاحت وصراحت کےساتھ مندرج ہے فیاتون محمداً فیقولون یامحمد انت رسول اللہ وخاتم النبیین‘‘یعنی سارے اولین و آخرین سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ پر بہار میں آخر ہوں عرض کریںگے کہ حضور ! آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیا کے خاتم ہیںہماری شفاعت فرمائیے ان احادیث سے یہ بات مترشح ہی نہیں بلکہ متحقق ہوجاتی ہے کہ اولین وآخرین سب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہتے اور مانتے رہے۔
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا اس قدر مسلم ہے کہ دراز گوش نے بھی یہ ملا اظہار کیا کہ انبیا میں آپ کے سوا کوئی اور نبی باقی نہیں ، اس سلسلے میں سید اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جو اہل حدیث فناوی رضویہ میں پیش فرمایا ہے، اختصار کے ساتھ اس حدیث تمتہ ملاحظہ کریں۔
جنگ خیبر کی عظیم الشان فتح وکامرانی کے بعد حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس ہورہےتھے اثنائے راہ یک بیک ایک سیاہ رنگ کے درازنوش کو آپ نے دیکھ کر اس کا نام پوچھا تو اس نے جواباً عرض کیا کہ میرا نام یزید بن ثہاب ہے اور خندق کا ئنات نےمیرے دادا کی نسل میں اس قدر برکتیں فرمائیں کہ اس میں ساتھ دراز گوش پیدا کئے اور ہر ایک کو یہ شرف عزازبخشا کہ وہ کسی نہ کسی نبی کے سواری کے کام آیا، پھر وہ کہنے لگا ’’وقل کنت اتو قعک ان تن لنبی لم یبق من نسل جدی غیر ی ولا من الانبیاء غیرک‘‘یعنی مجھے یقین توقع تھی کہ حضور مجھے اپنی سواری سے مشرف فرمائیںگے کہ اب اس نسل میں سوا میرے اور ابنیا میں سوائے حضور کے کوئی باقی نہیں، مزید برآن آبھی کہنے لگا کہ میں پہلے ایک یہودی کےپاس تھا جو بڑ رہی ظالم وسفا ک ۔۔۔وہ مجھے بھوکا رکھنے کے ساتھ ساتھ مجھ کو زدو کوب بھی کرتا تھا۔
سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس درا زگوش کا نام یعفور رکھاتھا ، یہاں تک روایتیں ملتی ہیں کہ جب آپ کسی کو بلانا چاھتے تو یعفو کو بطور قاصد بھیجد یئے اور وہ اس شخص کےمکان چوکھٹ پر سرمارتا جب صاحب خانہ باہر آتا تو اسے اشارے سے بتاتا کہ تجھے اللہ کےرسول نے یاد فرمایا ہے، یعفور کے عشق رسول پر قربان جائیے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ نے اس دنیائے فانی کو خیر باد کہا تو یعفور آپ کی رحلت کو برداشت نہ کرسکا یہاں تک کہ آپ کی جدائی کے صدمے سے ندھال ہو کر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کنوئیں میں گرکر موت کی آغوش میں چلا گیا۔
صرف یعفور دراز گوش کی تخصیص کیا بلکہ سیدی اعلیٰ حضرت نے طبرانی معجم واسطہ معجم صغیر، دلائل النبوہ تاریخ اہل عساکر وغیرہ کی مستند لمحتایوں کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ ایک سو سمار نے مجمع عام فصیح عربی زبان میں واضح انداز مین کہا کہ یارسول اللہ آپ خاتم النبیین ہیں واضح رہے کہ یہ حدیث مولائے کائنات ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور حضرت ابور ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہم کی روایات میں جلوہ ریز ہے جیسا کہ خصائخص کبریٰ اور جامع کبیر میں مندرج ہے۔
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ قبیلۂ بنی سلیم کا ایک بادیہ نشیں ایک سوسھار کاشکار کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور آپ کےسامنے سوسمار کو ڈال کر کہنے لگا کہ لات عزی کی قسم میں اس وقت تک آپ پر ایمان لاؤںگا جب تک کہ یہ سوسمار آپ پر ایمان نہ لے آئے۔
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوسمار کو جوں ہی آواز دی اس نے فوراً جواباً عرض کیا لبیک وسعد یک یا زین من ورفی یوم القیامۃ یعنی اے تمام حاضرین مجمع محشر کی زینت میں آپ کی خدمت بندگی میں حاضرہوں سوسمار کےجواب کو اس وقت وہاں سارے موجودین نے سنا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من تعبد ! یعنی تعو کسی کی عبادت کرتا ہے؟ اس نے عرض کی الذی فی اسماء عرش وفی الارض سلطانہ فی البحر سبیلہ وفی الجنۃ رحمتہ وفی الناس عذابہ یعنی میں اس ذات کی عبادت کرتا ہوں جس کا عرش آسمان میں سلطنت زمین میں راستہ سمندر میں ،رحمت جنت میں اور عذاب جہنم مین ہے، پھر آپ نے پوچھا من نا بھلا میں کون ہوں؟ اس نے عرض کی، انت رسول اللہ وخاتم النبیین قد افلح من صدک وقد خاب من کذبک یعنی آپ پرور دگار عالم کےرسول اور رسولوں کےخاتم ہیں جس نے آپ کی تصدیق کی وہ مراد کو پہنچا اور جس نے آپ کی تکذیب کی وہ نامراد ہوا۔
رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوسمار کو اس طرح کلام کرتا ہوا بارہ نشین نے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا وہ بر ملا کہنے لگا کہ خدا کی قسم جس وقت میں آپ کے پاس حاضر ہوا تھا اس وقت میری نظر میں آپ سے زیادہ کوئی شخص دشمن نہیں تھا اور اب آپ مجھے میرے والدین ہی نہی بلکہ میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہو، اتنا کہہ کر وہ فوراً کفر کی زنجیر توڑ کر کلمۂ طیبہ پڑھ کرحلقہ ٔ بگوش اسلام ہوگیا۔
مذکورہ بالاروایتوں سے یہ بات یہ نیم روز کی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ سرکا رابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ صرف انسانوں نے تسلیم کیا بلکہ جانوروں نے بھی زبان حال سے بلکہ زبان قال سے ببانگ دہل اعلان کیا کہ بلاشبہہ آپ پر نبوت تمام ہوئی۔ اب قیامت تک آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ، جو سرکار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں ماننا وہ جانور سے بھی گیا گزرا بلکہ بللظ دیگر یوں کہہ لیں کہ منکرختم نبوت سے جانور صدہا بہتر ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ان تمام اشخاص سے بھی محفوظ ومامون رکھے جو ایمان پر قدغن لگانے میں ذرہ برا بر بھی عار محسوس نہیں کرتے۔

باب رضویات کا مطالعہ کرنے کے لئے کلک کریں 

Leave a Reply

%d bloggers like this: