اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا کہنا کیسا ہے ؟

اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا کہنا کیسا ہے ؟

سوال : زید مدرسہ کے مدرس اور مسجد کا امام ہے. میلاد پاک صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے کے لئے مدعو کئے گئے ۔ دوران تقریر میں انہوں نے جملہ( اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا) استعمال کیا ۔ بکر اس میلاد پاک میں موجود تھا ۔ انہوں نے اس جملہ پر متنبہ کیا اور کہا کہ آپ نے بہت گندہ جملہ استعمال کیا ہے جس سے توبہ لازم ہے لہذا آپ توبہ کر لیں ۔ اتنا کہنا تھا تھا کہ وہ آپے سے باہر ہوگیا اور تاویل کرنا شروع کر دیا کہ ہم پیٹ سے مراد عبادت لیتے ہیں ۔ بکر نے کہا صریح کے اندر تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی آپ توبہ کر لیں مگر وہ توبہ کرنے سے انکار کرتے رہے اور اکڑ ہے کہ میرا یہ جملہ صریح صحیح ہے اور درست ہے ۔

بکر نے کہا آپ کے اس جملہ سے پروردگار عالم کا حدوث ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ حالانکہ پروردگار عالم کی ذات ازلی اور ابدی ہے اور جمیع عوارض جو انسان کے لیے ہوتے ہیں ان سبھوں سے وہ پاک اور منزہ ہے ۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ فریقین میں سے کون حق پر ہے اور جو باطل پہ ہے شریعت کی طرف سے ان پر کیا حکم صادر ہوگا ۔

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

زید کا جملہ مذکور کفر ہے اور اس کی یہ تاویل کے ہم پیٹ بول کر عبادت مراد لیتے ہیں شرعا مطرود و مردود ہے ۔ لہذا زید پر توبہ و تجدید ایمان لازم و ضروری ہے ۔

وھو تعالی و رسولہ الاعلی اعلم بالصواب ۔

ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول، کتاب العقائد صفحہ 6

Leave a Reply

%d bloggers like this: