اللہ کیا معاف کرے گا” کہنا کیسا؟

اللہ کیا معاف کرے گا” کہنا کیسا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔

مفتی صاحب قبلہ اگر کوئی شخص سبقت لسانی کی وجہ سے نا چاہتے ہوئے یہ جملہ بول دے کہ معاذ اللہ "اللہ کیا معاف کرے گا” تو اس شخص پر کیا حکم ہےاور وہ جس مجلس میں بولا ہو وہاں حقوق العباد کی بات ہو رہی ہو اور اس نے حقوق العباد کے متعلق کہا ہو تو اس پر شریعت کا کیا حکم ہے۔
المستفتی: عبد السلام انصاری نگر نالا سوپارہ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں شخص مذکور کے قول "اللہ کیا معاف کرے گا” سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر سمجھتا ہے حالانکہ وہ اس کی قدرت سے باہر نہیں لہذا اسے چاہئے کہ اس بات سے رجوع کرے اور سچی توبہ و استغفار کرے۔
قرآن پاک میں ہے: "اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ (سورۃ النساء: ١١٦)

بے شک اللہ تعالی شرک کو معاف نہیں فرماتا اور اس کے سوا جس گناہ کو بھی چاہے معاف فرمادے خواہ وہ گناہ اس کے اپنے حق سے متعلق ہو یا حقوق العباد سے متعلق ہو ہاں اس نے اپنے عدل کا یہ ضابطہ رکھا ہے کہ حق العبد میں جب تک بندہ معاف نہ کرے اللہ تعالی بھی معاف نہیں فرماتا۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "حقوق العباد میں بھی ملک دیان عزجلالہ نے اپنے دارالعدل کایہی ضابطہ رکھاہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوگا اگرچہ مولی تعالی ہمارا اور ہمارے جان ومال وحقوق سب کامالک ہے اگروہ بے ہماری مرضی کے ہمارے حقوق جسے چاہے معاف فرمادے توبھی عین حق وعدل ہے کہ ہم بھی اسی کے اور ہمارے حقوق بھی اسی کے مقرر فرمائے ہوئے، اگر وہ ہمارے خون ومال وعزت وغیرہا کومعصوم ومحترم نہ کرتا تو ہمیں کوئی کیساہی آزارپہنچاتا نام کوبھی ہمارے حق میں گرفتارنہ ہوتا۔ یوہیں اب اس حرمت و عصمت کے بعد بھی جسے چاہے ہمارے حقوق چھوڑدے ہمیں کیامجال عذرہے مگر اس کریم رحیم جل وعلا کی رحمت کہ ہمارے حقوق کااختیارہمارے ہاتھ رکھاہے بے ہمارے بخشے معاف ہوجانے کی شکل نہ رکھی کہ کوئی ستم رسیدہ یہ نہ کہے کہ اے مالک میرے! میں اپنی داد کو نہ پہنچا۔” اھ (فتاوی رضویہ جدید ، ج٢٤، ص٤٦١، رسالہ اعجب الامداد  فی مکفرات حقوق العباد، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مجمع الانهر میں ہے: ” وما كان خطأ الألفاظ لا يوجب الكفر فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح، ولكن يؤمر بالاستغفار، والرجوع عن ذلك ” اھ(ج٢، ص٥٠١، کتاب السیر والجھاد ، باب المرتد، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

یعنی خطأ الفاظ کفر سے کفر ثابت نہیں ہوتا تو اس کا قائل مومن ہی رہے گا اسے تجدید نکاح کا حکم نہ دیا جائے گا لیکن استغفار اور اس کلمہ کفر سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا۔  ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

کتبہ محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔
صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
١٠ رجب المرجب ١٤٤٤ھ مطابق ٢ فروری ٢٠٢٣ء

Leave a Reply