یہ کہنا کیسا ہے کہ اگر ایسا کام کروں تو کافر ہو جاؤں ؟

یہ کہنا کیساکہ اگر ایسا کروں تو کافر ہوجاؤں

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اگر کوئی شخص کہے کہ اگر میں فلاں کام کرو تو میں کافر ہو جاؤں؟ کیا یہ جملہ کفریہ ہے؟ اور وہ اس جملے کے کہنے ۔کے بعد فوراً کافر ہو جاۓ گا؟ اور پھر وہ کام کر بھی دے تو کیا کام کرنے کے بعد وہ کافر ہوا یا پہلے ہی جملہ بولنے سے بھی خارج از اسلام ہوا؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس مسئلہ میں کفر کا حکم تب ہوگا جب قائل کا یہ عقیدہ ہو کہ وہ اگر فعل انجام دے تو کافر ہوجائے گا ۔ اور وہ فعل کر بھی لے یہ اس لیے کہ اس فعل کو انجام دیتے وقت جو اس کے نزدیک کفر تھا، اس کی رضا پائی گئی۔ اور اگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اس فعل کے کرنے کے بعد بھی کافر نہ ہوگا تو اس پر حکم کفر نہیں ہوگا اگرچہ وہ فعل کرلے ۔

ہندیہ (٢٩٨/٢) میں ہے: امرأة قالت: كافر أم اكر جنين كار كنم قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل: تكفر، وتبين من زوجها للحال، وقال القاضي الإمام علي السغدي: هذا تعليق ويمين، وليس بكفر. یعنی اگر کسی عورت نے کہا: میں ایسا کام کرؤں تو کافرہ ہوں۔

             امام ابوبکر نے کہا: وہ اسی وقت کافرہ ہوکر اپنے شوہر سے بائنہ ہوجائے اور امام علی سغدی نے فرمایا: یہ تعلیق ویمین ہے، کفر نہیں۔ اھـ امام احمد رضا رحمة الله عليه، امام علی سغدی کے قول پر فرماتے ہیں: وھو الحق الذي لا يحل العدول عنه ولا مساغ لغیرہ أصلا. (حاشیة علي الهندية، ص: ٨٢) یعنی یہی حق ہے کہ جس سے عدول کرنا جائز نہیں اور جس کے علاوہ کو اختیار کرنے میں اصلا کوئی گنجا ئش نہیں ۔

تفسیر «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا

 

 

Leave a Reply