دکھتی آنکھ سے گرنے والا پانی پاک ہے یا ناپاک

دکھتی آنکھ سے گرنے والا پانی ناپاک اور ناقض وضو ہے

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

زید کی آنکھ دکھ رہی ہے پانی اس قدر آرہا کہ رک ہی نہیں رہا جبکہ دوسرا وضو کرے تو پھر ٹوٹ جاے گا کیا کرے اب زید نماز کیسے ادا کرے؟

المستفتی:محمد ارشدالقادری لونی غازی آباد یوپی

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب ۔

دکھتی آنکھ سے پانی آنا نجاست غلیظہ ہے اور اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن اگر کسی کو اس قدر پانی آے کہ وقت میں وضو کے ساتھ نماز ادا نہ کر سکے تو وہ معذور ہے لہذا زید کو جس دن اس قدر پانی آیا کہ نماز کے ایک پورے وقت میں وضو کے ساتھ نماز ادا نہ کر سکا اس دن کے اس وقت سے وہ معذور ہے اور اگر ایسی حالت پیدا نہ ہوئی تو وہ معذور نہیں، اور جب تک آنکھ سے پانی ہر وقت میں ایک بار بھی آکر گرتا رہے وہ معذور رہے گا اور جس دن ایک پورا وقت ایسا گزر جاے گا کہ جس میں اس قدر پانی نہ آے تو اس وقت وہ معذور نہ رہے گا اور پھر جب حالت مذکورہ پیدا ہوجاے تو معذور ہو جاے گا۔

اس کیلئے حکم یہ ہے کہ وہ وقت میں وضو کرے اور آخر وقت تک اس وضو سے جتنی نمازیں چاہے پڑھے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا البتہ دوسرے نواقض وضو سے کوئی ناقض پایا گیا تو وضو ٹوٹ جاے گا اسی طرح وقت ختم ہونے سے۔

آنکھوں کے پانی سے کپڑے اگر ایک درہم سے زائد نجس ہوجاتے ہوں اور یہ جانتا ہو کہ دھل کر پاک کپڑے سے نماز پڑھ سکوں گا تو دھلنا فرض اور ایک درہم کی صورت میں واجب اور اس سے کم میں سنت اور اگر جانتا ہو کہ دوران نماز پھر نجس ہوجائیں گے تو دھلنا ضروری نہیں۔

اور یہی حکم ہر اس شخص کا ہے جو معذور ہو مثلا دست آنا، پھوڑے یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا وغیرہ

در مختار و ردالمحتار میں ہے "و ﺻﺎﺣﺐ ﻋﺬﺭ ﻣﻦ ﺑﻪ ﺳﻠﺲ ﺑﻮﻝ ﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ ﺇﻣﺴﺎﻛﻪ ﺃﻭ اﺳﺘﻄﻼﻕ ﺑﻄﻦ ﺃﻭ اﻧﻔﻼﺕ ﺭﻳﺢ ﺃﻭ اﺳﺘﺤﺎﺿﺔ ﺃﻭ ﺑﻌﻴﻨﻪ ﺭﻣﺪ ﺃﻭ ﻋﻤﺶ ﺃﻭ ﻏﺮﺏ ﻭﻛﺬا ﻛﻞ ﻣﺎ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﻮﺟﻊ ﻭﻟﻮ ﻣﻦ ﺃﺫﻥ ﻭﺛﺪﻱ ﻭﺳﺮﺓ ﺇﻥ اﺳﺘﻮﻋﺐ ﻋﺬﺭہ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﻗﺖ ﺻﻼﺓ ﻣﻔﺮﻭﺿﺔ بان ﻻ ﻳﺠﺪ ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ ﻭﻗﺘﻬﺎ ﺯمنا ﻳﺘﻮﺿﺄ ﻭﻳﺼﻠﻲ ﻓﻴﻪ ﺧﺎﻟﻴﺎ ﻋﻦ اﻟﺤﺪﺙ ﻭﻟﻮ ﺣﻜﻤﺎ ﻷﻥ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻴﺴﻴﺮ ﻣﻠﺤﻖ ﺑﺎﻟﻌﺪﻡ ﻭﻫﺬا ﺷﺮﻁ العذر ﻓﻲ ﺣﻖ اﻻﺑﺘﺪاء ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺒﻘﺎء ﻛﻔﻰ ﻭﺟﻮﺩﻩ ﻓﻲ ﺟﺰء ﻣﻦ اﻟﻮﻗﺖ ﻭﻟﻮ ﻣﺮﺓ ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺰﻭاﻝ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﺳﺘﻴﻌﺎﺏ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ ﺗﻤﺎﻡ اﻟﻮﻗﺖ ﺣﻘﻴﻘﺔ ﻷﻧﻪ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻜﺎﻣﻞ۔

ﻭﺣﻜﻤﻪ اﻟﻮﺿﻮء ﻻﻏﺴﻞ ﺛﻮﺑﻪ وﻧﺤﻮﻩ ﻟﻜﻞ ﻓﺮﺽ اللام ﻟﻠﻮﻗﺖ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ (ﻟﺪﻟﻮﻙ اﻟﺸﻤﺲ) [اﻹﺳﺮاء: 78] ﺛﻢ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﻪ ﻓﻴﻪ ﻓﺮﺿﺎ ﻭﻧﻔﻼ ﻓﺪﺧﻞ اﻟﻮاﺟﺐ ﺑﺎﻷﻭﻟﻰ ﻓﺈﺫا ﺧﺮﺝ اﻟﻮﻗﺖ ﺑﻄﻞ۔

ﻭﺇﻥ ﺳﺎﻝ ﻋﻠﻰ ﺛﻮﺑﻪ ﻓﻮﻕ اﻟﺪﺭﻫﻢ ﺟﺎﺯ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻐﺴﻠﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻟﻮ ﻏﺴﻠﻪ ﺗﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ اﻟﻔﺮاﻍ منھا ﺃﻱ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺇﻻ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ ﻓﺮاﻏﻪ ﻓﻼ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺮﻙ ﻏﺴﻠﻪ ﻫﻮ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻟﻠﻔﺘﻮﻯ” ملتقطا(ردالمحتار ،ج١،ص٥٥٣تا٥٥٧)۔

ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ٣٨٥تا٣٨٧ پر ہے۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

١٧جنوری٢٠١٩

Leave a Reply

%d bloggers like this: