کسی عالم کے گھر شادی کے موقع پر ناچ گانا ہو تو اس کیلئے کیا حکم ہے؟

کسی عالم کے گھر شادی کے موقع پر ناچ گانا ہو تو اس کیلئے کیا حکم ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس گھر میں شادی کے موقعے پر گانا بجانا ہواور عورتیں بھی گانا گائیں اور اس گھر میں عالم ہو اور منع نہ کرے تو اس عالم کے بارے میں کیا حکم ہے ۔ اس عالم کو ممبر رسول پر بیٹھنے دیا جائے کی نہیں ، اور اس کے شادی کے ولیمہ و برات میں شریک ہوا جائے یا نہیں ۔ اور اگر عالم پہ توبہ لازم آتا ہے اور نہیں کرتے ہیں تو کیا حکم ہے ۔ حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی ۔

الســــائل :  مـحـمـد رضــوان احـمد اسماعیـلی سدھارتـھ نگر (یوپـی)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجوابــــــــ بعـون المـلک الـوہاب

صورت مسؤلہ میں ،شادی ہو یا لہو لعب کے طور پر تاشے، باجے آتش بازی وغیرہ یہ سب افعال گناہ و ناجائز ہیں ۔

جیسا کہ فتاوی امجدیہ میں،حاشیہ در مختارکے حوالے سے عبارت نقل ہے ( لا باس فی العرس یشتھرو فی السراجیۃھذا اذا لم یکن لہ جلا جل ولا یضرب علی ھیٔۃالتطرب) حضور الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں ۔

نکاح کی تاریخ مقرر کرنا جائز ، اور دعوت ولیمہ سنت ،اور اس تقریب میں خویش واقارب کو دعوت دینا اور مہمانوں کو کھانا کھلانا مستحسن، بغیر جھانجھ کے (د ف) بجانا بھی جائز ہے  ۔ جبکہ قواعد موسیقی پر بجایا نہ جائے، دف، کے علاوہ اور باجے حرام ہیں، ہیں مگر اس کی وجہ سے نکاح میں خلل نہ آئے گا ۔

(فتاوی امجدیہ ،جلد دوم ،کتاب النکاح ،صفحہ نمبر 11)

فتاوی رضویہ، میں امام اہلسنت علیہ الرحمہ والرضوان رقمطراز ہیں،جس حافظ ،یا امام نے باجا اورناچ کی بارات میں شرکت کی تو اس کے اوپر توبہ استغفار واجب ہے ،جب تک وہ توبہ نہ کرلے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔

(فتاوی رضویہ جلد 9)

بغیر توبہ اسے ممبر رسول پر چڑھنے کی اجازت نہ ہو گی ۔  وھکذا فی الکتب الفقہیہ

واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب

حضرت علامہ و مولانا محمد منظور عالم قادری صاحب قبلہ

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

خادم دار العلوم عربیہ اہلسنت معین الاسلام چھتو‌نہ

میگھو لی کلاں مہراجگنج (یوپی)

Leave a Reply

%d bloggers like this: