امام احمد رضا اور تقویٰ از حضرت علامہ محمد احمد مصباحی

امام احمد رضا اور تقویٰ
حضرت علامہ محمد احمد مصباحی ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور

امام احمد رضا کی پوری زندگی شریعتِ مصطفیٰ وسنتِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی پابندی سے آراستہ ہے۔ان کے تقویٰ کی شان بڑی بلند وبالا ہے ۔چند واقعات پیش کرتا ہوں جن سے اندازہ ہوگا کہ وہ تقویٰ ہی نہیں وَرَع ْکی منزل بلند پر فائز تھے اوراِنْ اَوْلِیَآئُ ہٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ کے مطابق متقی کامل اور ولی ّعارف تھے۔

امام احمد رضا کی زندگی کا آخری رمضان ۱۳۳۹ھ میں تھا، اس وقت ایک تو بریلی میں گرمی تھی دوسرے عمر مبارک کا آخری حصہ اور ضعف ومرض کی شدت ۔شریعت اجازت دیتی ہے کہ شیخ فانی روزہ نہ رکھ سکے تو فدیہ دے اور ناتواں مریض کو اجازت دیتی ہے کہ قضا کرے لیکن امام احمد رضا کا فتویٰ اپنے لیے کچھ اور ہی تھا جو در حقیقت فتویٰ نہیں تقویٰ تھا ۔ انہوں نے فرمایا :بریلی میں شدت گرما کے سبب میرے لیے روزہ رکھنا ممکن نہیں لیکن پہاڑ پر ٹھنڈک ہوتی ہے ،یہاں سے نینی تال قریب ہے، بھوالی پہاڑ پر روزہ رکھا جاسکتا ہے، میں وہاں جانے پر قادر ہوں لہٰذا میرے اوپر وہاں جاکر روزہ رکھنا فرض ہے چنانچہ رمضان وہیں گزارے اور پورے روزے رکھے۔

۲۵؍صفر کو وصال ہوتا ہے، مرض مہینوں سے تھا اور ایسا کہ چلنے پھر نے کی طاقت نہیں، شریعت اجازت دیتی ہے کہ ایسا مریض گھر میں تنہا نماز پڑھ لے ۔مگر امام احمد رضا جماعت کی پابندی کرتے اور چار آدمی کرسی پر بٹھا کر مسجد پہنچاتے جب تک اس طرح حاضری کی قدرت تھی،جماعت میں شریک ہوتے رہے۔
میں نے’’ جمل النور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور‘‘ کے حاشیہ میں اپنے استاذ محترم حضور حافظ ملت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب مراد آبادی علیہ الرحمہ (۱۳۱۲ھ؍ ۱۳۹۶ھ)کی روایت سے لکھا ہے :۔

ایک بار مسجد لے جانے والا کوئی نہ تھا، جماعت کا وقت ہوگیا ۔ طبیعت پریشان،ناچار خود ہی گھسٹتے ہوئے حاضر مسجد ہوئے اور باجماعت نماز ادا کی ۔آج صحت وطاقت اور تمام تر سہولیات کے باوجود ترک نماز اور ترک جماعت کے ماحول میں یہ واقعہ ایک عظیم درس عبرت ہے۔
ایک بار امام احمد رضا قدس سرہ اپنے علاقۂ زمینداری میں سکونت پزیر تھے ۔درد قولنج کے سخت دورے ہوا کرتے تھے ۔ایک دن تنہا تھے ،فرماتے ہیں: ظہر کے وقت درد شروع ہوا ، اسی حالت میں جس طرح ہوا وضوکیا،اب نماز کو کھڑا نہیں ہوا جاتا،رب عزوجل سے دعا کی اور حضور اقدس اسے مدد مانگی، مولیٰ عزوجل مضطر کی پکار سنتا ہے، میں نے سنتوں کی نیت باندھ دی ۔درد بالکل نہ تھا ۔سلام پھیرا ،اسی شدت سے تھا ۔فوراً اٹھ کر فرضوں کی نیت باندھی درد جاتا رہا،جب سلام پھیرا وہی حالت تھی ۔بعد کی سنتیں پڑھی درد موقوف اور سلام کے بعد پھر بدستور ،میں نے کہا اب عصر تک ہوتا رہ…پلنگ پر لیٹا کروٹیں لے رہا تھا کہ درد سے کسی پہلو قرار نہ تھا ،خواہ یہ کہیے کہ حالت نماز میں درد یکسر اٹھا لیا جاتا تھا یا یہ کہیے کہ توجہ اِلیٰ اللہ اور استغراق عبادت کے باعث درد کا احساس نہ ہوتا تھا ،بہر صورت امام احمد رضا کی مقبولیتِ بارگاہ اور ذوق عرفانی کی دلیلِ کافی ہے۔

اس طرح کے واقعات کہاں تک میں جمع کروں جب کہ ان کی پوری زندگی ان ہی حالات وکیفیات سے آراستہ وپیراستہ ہے ۔ ایک واقعہ اور ذکر کیا جاتا ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دن بھر علمی مشاغل اور تدوین فقہ وغیرہ میں مصروف رہتے، رات کو نوافل و عبادات بھی بجالاتے مگر رات کے کچھ حصے میں آرام بھی کرتے،ایک بار کہیں جارہے تھے، انہیں دیکھ کر کسی نے کہا یہ وہ ہیں جو رات بھر عبادت کرتے ہیں۔ اس وقت سے پوری رات عبادت اور شب بیداری اختیار کرلی۔

کسی نے امام احمدرضا قدس سرہ کے پاس خط لکھا تو اس میں دیگر القاب وآداب کے ساتھ ’’حافظ‘‘بھی لکھ دیا ۔اس وقت امام احمد رضا با ضابطہ حافظ قرآن نہ تھے ۔اگرچہ قریباً تمام آیات کریمہ حضرت کے زبان وقلم پر رہا کرتیں…اور حسب ضرورت ان سے استدلال واستنباط بھی کرتے ،شیربیشہ ٔ اہل سنت مولاناحشمت علی خاں علیہ الرحمہ ۲۹ ؍ شعبان ۱۳۳۷ھ کا اپناعینی مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خط میں اعلیٰ حضرت اپنے القاب کے ساتھ ’’حافظ‘‘ملاحظہ فرما کر آب دیدہ ہوگئے۔خوف ِخدا سے دل کانپ اٹھا اور فرمایا:’’ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میرا حشر ان لوگوں میں نہ ہو جن کے بارے میں قرآن عظیم فرماتا ہے: یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا(وہ اسے پسند کرتے ہیں کہ ان کی ایسی خوبیاں بیان کی جائیں جو ان میں نہیں )۔‘‘

اس واقعے کے بعد آپ نے قرآن یاد کرنے کا عزم صمیم کرلیا اور روزانہ عشا کا وضو فرمانے کے بعد جماعت ہونے سے قبل بس اس طرح یاد کرتے کہ کوئی ایک پارہ یا زیادہ آپ کو سنا دیتا پھر آپ سنادیتے۔ ۲۹؍شعبان کے بعد شروع کیا اور ۲۷ ؍رمضان تک پورا قرآن حفظ کرلیا اور تراویح میں سُنابھی دیا ۔
یہ واقعہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ سے کس قدر مشابہت رکھتا ہے ۔ان کا محرک بھی یہی تھا کہ کسی نے کہہ دیا پوری رات عبادت کرتے ہیں ۔یہاں بھی یہ کہ کسی نے حافظ لکھ دیا ۔جبکہ باضابطہ حافظ قرآن نہ تھے، خوفِ خدا ہوتو ایسی مشکل چیزیں مشکل نہیں رہ جاتیںاور قلب ایسا آمادہ ہوتا ہے کہ کرہی کے دم لیتا ہے ۔
تقویٰ کا اجمالی منظر:اس طرح کے بہت سے واقعات امام احمد رضا کی تاریخی زندگی سے وابستہ ہیں جن میں ان کا عرفان،خوف خدا اور پرہیز گاری وتقویٰ کا حسن صاف جھلکتا ہے۔ میں اِجمالاً چند واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔مختلف اصناف تقویٰ کے جلوے نظر آئیں گے۔ تقسیم وتنویع سے صرف نظر کرتے ہوے سبھی کو تقویٰ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔

(۱) حقوق العباد کی اہمیت امام احمد رضا کا قلب صافی خوب محسوس کرتا ہے، اس سلسلے میں ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے’’ اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد‘‘رمضان میں بعد افطار صرف پان کھالیتے اور سحری کے وقت ایک چھوٹے سے پیالہ میں فیرینی تناول فرماتے۔ زمانۂ اعتکاف میں ایک دن ملازم بچہ دو گھنٹے تاخیر سے پان لے کر آیا ۔ حضرت نے اس کو ایک چپت مار کر فرمایا :اتنی دیر میں لایا۔اس ایک چپت مار نے پر انہیں رات بھر فکر رہی ۔آخر سحری کے وقت اسے بلوایا اور فرمایا کہ رات جو تاخیر ہوئی ،اس میں تمھارا قصور نہ تھا، بھیجنے والے کی کوتاہی تھی ۔مجھ سے غلطی ہوئی کہ تمہیں چپت ماری، اب تم میرے سر پر چپت مارو۔ٹوپی اتار کر اصرار فرماتے رہے ،بچہ دم بخود کانپنے لگا ۔ہاتھ جوڑ کر عرض کیا، حضور! میں نے معاف کیا فرمایا: تم نابالغ ہو، تمہیں معاف کرنے کا حق نہیں چپت مارو۔پھر اپنا بکس منگواکر مٹھی بھر کر پیسے نکالے اور فرمایا: یہ پیسے تمہیں دوں گا چپت مارو ۔آخر اس کا ہاتھ پکڑ کر بہت سی چپتیں اپنے سر پر لگائیں اور پھر اسے پیسے دے کر رخصت کیا ۔
وقت وصال سے کچھ ایام پہلے کا چشم دید واقعہ مولانا جعفر شاہ پھلواروی لکھتے ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد اپنے ضعف ومرض کی حالت میں درد واثر میں بھری ہوئی آواز میں چند وداعی کلمات کچھ اس طرح کہے:
’’میری طرف سے تمام اہل سنت مسلمانوں کو سلام پہنچا دو اور میں نے کسی کا قصور کیا ہے تو میں اس سے بڑی عاجزی سے اس کی معافی مانگتا ہوں ۔مجھے خدا کے لیے معاف کردو، مجھ سے کوئی بدلہ لے لو۔‘‘
وصایا میں بھی وصال سے چند ماہ قبل کے ایک اجلاس اور خطاب کا ذکر ہے جس کے آخر میں فرمایا گیا :آپ حضرات نے کبھی مجھے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچنے دی ۔میرے کام آپ لوگوں نے خود کیے، مجھے نہ کرنے دیے ۔اللہ تعالیٰ آپ سب صاحبوں کو جزائے خیر دے، مجھے آپ صاحبوں سے امید ہے کہ قبر میں بھی کسی قسم کی تکلیف کے باعث نہ ہوں گے ۔میں نے تمام اہل سنت سے اپنے حقوق لِوَجْہِ اللہ معاف کردیے ہیں۔ لوگوں سے دست بستہ عرض ہے کہ مجھ سے جو کچھ آپ کے حقوق میں فروگزاشت ہوئی ہے وہ سب معاف کردیںاور حاضرین پر فرض ہے کہ جو حضرات موجود نہیں ان سے معافی کرالیں ۔

(۲)گھر میں فوٹو اور تصوریں ہر گز برداشت نہ کرتے ،وصال کے وقت روپے پیسے تک نکلوا دیے کہ ملائکہ رحمت کی تشریف آوری میں کسی طرح کا شبہہ بھی نہ رہ جائے۔

(۳)تواضع وانکساری کی یہ حالت تھی کہ ایک بار پیلی بھیت آتے وقت ٹرین میں تاخیر تھی تو اسٹیشن پر آرام کرسی بیٹھنے کو دی گئی ۔فرمایا: یہ تو بڑی متکبرانہ کرسی ہے ۔تشریف رکھا لیکن پشت نہ لگائی اور وظائف میں مشغول رہے ۔کسی شخص کواعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں ایک مسلمان حجام کے برابر بیٹھنا پڑا تو آئندہ انہوں نے آنا ہی ترک کردیا ۔اعلیٰ حضرت نے فرمایا: میں بھی ایسے متکبر کو پسند نہیں کرتا ۔

(۴)اطاعت والدین میں بھی ان کی مثال پیش کرنی مشکل ہے ،والد گرامی کے وصال کے بعد اپنی پوری باگ ڈور اپنی والدہ ماجدہ قدس سِرَّہا کے ہاتھ میں دے رکھی تھی، بے اِذن حج نفل بھی گوارا نہ کیا۔جو کچھ رقوم ہوتیں سب والدہ کی خدمت میں حاضر کردیتے، ان کی اجازت کے بغیر کتابیں بھی نہ خریدتے۔

(۵)علماے اسلام کی توقیر وتعظیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونے دیتے ۔علامہ شامی اور محقق علی الاطلاق جیسے اکابر کی باتوں پر کلام کرتے ہیں مگر ادب اور تواضع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،جب کہ آج اکابر پر اس طرح حرف گیری کی جاتی ہے کہ وہ طفل مکتب معلوم ہوں ۔یہ ان لوگوں کا حال ہے جنہیں امام احمد رضا کے علوم کا پچاسواں حصہ بھی نصیب نہیں ۔ایک جگہ ردالمختار میں علامہ شامی نے فرمایا: اس اعتراض کا حل ہماری سمجھ میں نہ آیا ۔ اعلی حضرت نے جد الممتار میں اس پر لکھا’’وظھر لنا ببرکۃ خدمۃ کلماتکم‘‘آپ کے کلمات پر عمل کرنے کی برکت سے ہمیں سمجھ میں آگیا ۔الخ
شان علما کا ذکر فرماتے ہوئے ایک قصیدہ میں لکھا ہے :
اِذَا حَلُّوْا تَمَصَّرَتِ البَوَادِیْ اِذَا رَاحُوْافَصَارَ الْمِصْرُ بَیْداً
یہ حضرات جب کہیں فروکش ہوں تو بادیے شہر بن جائیں اور جب رخصت ہوں تو شہر جنگل بن جائیں ۔ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری نے عرض کیا یہ تو شاعرانہ مبالغہ معلوم ہوتا ہے ۔فرمایا: حقیقت ہے۔مولانا عبد القادر صاحب جب تشریف فرما ہوتے ، پورے شہر میں چہل پہل نظر آتی،عجب کیف وسرور کا سماں ہوتا ،واپس چلے جاتے، معلوم ہوتا ویرانی چھاگئی ،حالانکہ ان کے سوا سبھی موجود ہوتے۔
یہی وجہ ہے کہ مولانا عبد الحق خیر آبادی نے انہیں ’’ہمارا بدایونی خبطی‘‘کہا تو اعلی حضرت مولانا عبد القادر کے ذکر میں اپنے غضب دینی کو برداشت نہ کرسکے پھر بھی باادب جواب دیا کہ سب سے پہلے رد وہابیہ آپ کے والد ماجد نے کیا ہے۔’’تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغوی ‘‘مولوی اسماعیل دہلوی کی تقویت الایمان کے رد میں پہلی کتاب ہے جو آپ کے والد ماجد مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ نے تصنیف کی ۔

(۶) حق گوئی اور صلابت دینی کی مثالیں ایک سے ایک ہیں ۔مولانا فضل رسول بدایونی قدس سرہ کے عرس میں ایک بار شرکت فرمائی، مولوی سراج الدین آنولوی کوئی میلاد خواں واعظ تھے، انہوں نے دوران تقریر یہ کہاکہ ’’پہلے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں فرشتے روح ڈالیںگے‘‘ چونکہ اس میں حیات ِانبیا علیہم السلام کے مسلمہ اصول سے انکار نکلتا تھا ۔یہ سن کر اعلیٰ حضرت کا چہرہ متغیر ہوگیااور مولانا عبد القادر علیہ الرحمہ سے فرمایا: آپ اجازت دیں تو ان کو منبر سے اتار دوں۔مولانا علیہ الرحمہ نے ان کو بیان سے روک دیا اور مولانا عبد المقتدر صاحب سے فرمایا کہ ایسے بے علم لوگوں کو مولانا احمد رضا خاں کے سامنے میلاد شریف پڑھنے نہ بٹھایا کیجیے، جن کے سامنے بیان کرنے والے کے لیے علم اور زبان کو بہت نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
اسی سلسلے میںاعلیٰ حضرت نے فرمایا:’’ انھی وجوہ سے آج کل کے واعظین اور میلاد خوانوں کے بیانوں ،وعظوں میں جانا چھوڑدیا‘‘۔ اور حضرت شاہ علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے متعلق فرمایاکہ حضرت ان میںسے ہیںجن کابیان میںبخوشی سنتاہوں۔
یہ حصہ بھی خاص طور سے قابل غور ہے کہ اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ اگر چہ باضابطہ سندی عالم نہ تھے مگر علم باطن نے علم ظاہر میں بھی انہیں ایسا پختہ کار بنادیا تھا کہ اعلیٰ حضرت بریلوی جیسا محقق عالم وعارف ان کا بیان بخوشی سنتا۔ اسی لیے اعلی حضرت نے لکھا ہے کہ کوئی صوفی علم ظاہر سے خالی نہ ہوگا اور جو خالی ہو وہ صوفی نہیں مسخرئہ شیطان ہے۔ (مقال عرفا وغیرہ)

(۷)خدمت دینی پر اپنوں کی مدح اور غیروں کی قدح انسان کو عُجب وکبریا نفسانی غصہ وانتقام میں مبتلا کردیا کرتے ہیں۔مگر امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں :بخدا میں نہ ان اکابر علما واولیا کی مدح پر اِتراتا ہوں نہ ان دشمنان ِخدا ورسول کی گالیوں سے غصہ میں آتا ہوں ۔خدا کا شکر ہے کہ اس نے اس ناچیز کو اس قابل بنایا کہ اس کے حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے ناموس کی حفاظت میں گالیاں سنے ۔جتنی دیر مجھے گالیاں دیتے ہیں اتنی دیر تو میرے آقا کی بد گوئی سے باز رہتے ہیں۔ان کی ساری زندگی کا نقشہ یہ ہے ۔
نہ مرانوش زتحسین نہ مرا نیش زطعن
نہ مرا گوش بہ مدحے نہ مرا ہوش ذمے
ان کے اخلاق وعادات اور اتباع شرع کا بیان کہاں تک ہو۔ایک عینی مشاہدہ مولانا شاہ ابو سلمان محمد عبد المنان قادری جو ابتدائً اعلی حضرت کے مخالف تھے، انہوں نے یہ تحریری بیان دیا کہ :
اعلیٰ حضرت اخلاق نبویہ کی ایک زندہ مثال ہیں۔آپ کی زیارت نے تمام وکمال فقیر پر یہ ثابت کردیا کہ جو کچھ بھی آپ کی تعریفیں ہوتی ہیں وہ کم ہیں ۔

(۸) احتیاط فی القول کا یہ حال تھا کہ کسی حل یا جواب میں ذرا بھی خامی وغلطی ہوتی تو اسے ’’صحیح‘‘کہنے سے پرہیز کرتے ۔سید ایوب علی صاحب نے رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ کے اوقات نماز پنج گانہ کا نقشہ بناکر بھیجا ،دس پندرہ منٹ کے بعداصلاح کے ساتھ واپس آیا، جہاں جہاں بھی خامی تھی اس پر غلط کا نشان اور جو صحیح تھا اس پر صحیح کا نشان بنا دیا گیا تھا، ایک خانہ میں بجائے صحیح کے خیر لکھا تھا، غور کیا تو سکنڈ کے ہزار ویں حصے کی غلطی تھی جس سے اوقات پر کوئی اثر نہیں آتا مگر غلطی بہر حال غلطی ہے اس لیے صحیح کا نشان نہ دیا بلکہ خیر لکھا تھا ۔

(۹) پیلی بھیت کے مشہور بزرگ شاہ جی محمد شیر میاں علیہ الرحمہ سے ملنے محدث سورتی کے ہمراہ تشریف لے گئے ۔دیکھا کہ شاہ صاحب بے حجابانہ عورتوں سے بیعت لے رہے ہیں ۔ احکام شرع پر کمال غیرت کے باعث اعلیٰ حضرت بغیر ملے ہوئے واپش تشریف لائے، کوئی دوسرا ہوتا تو بگڑ جاتا مگر شاہ صاحب کی بے نفسی وحق پسندی کا کمال اس طرح جلوہ گر ہوا کہ شام کو اسٹیشن تک پہنچانے تشریف لائے اور صبح کے واقعہ پر اظہار افسوس کے ساتھ کہا:’’مولانا اب آئندہ میں عورتوں کو پس پردہ بٹھا کر بیعت لیا کروں گا‘‘۔ اس کے بعداعلیٰ حضرت نے ان سے مصافحہ اور معانقہ فرمایا ۔

(۱۰) مسجد میں وضو کا مستعمل پانی گرانا جائز نہیں خواہ وہی پانی ہو جو اعضا پر لگا رہ جاتا ہے ۔ایک بار سخت سردی میں شاید بارش ہورہی تھی ۔ اعلیٰ حضرت معتکف تھے، باہر وضو کی صورت نظر نہ آئی ۔لحاف کو چار تہ کرکے اس پر وضو کیا، ایک قطرہ بھی فرش پر گرنے نہ دیااور پوری رات سردی میں ٹھٹھر کر بسر کردی۔

(۱۱)جب مسجد میں داخل ہوتے تو دایاں پائوں آگے بڑھاتے ۔ہر صف کو دایاں قدم بڑھاتے ہوئے عبور کرتے، اسی طرح محراب تک مصلیٰ پر پہنچ جاتے۔فرض نماز صرف کرتے اور ٹوپی پر بغیر عمامہ کبھی نہ ادا کی ۔
دُکھتی آنکھوں سے جو پانی گرے ناقضِ وضو ہے ۔ایک بار آشوب چشم تھا تو ہر نماز کے بعد کسی سے آنکھ دکھا لیتے کہ پانی حلقۂ چشم سے باہر تو نہیں آیا ورنہ دوبارہ وضو کرکے نماز لوٹانی ہوگی۔
لا تمش فی الارض مرحا پر عمل کیا تو ایسا کہ سبک خرامی دیدنی ہوتی، قدموں کی آہٹ پانا بھی مشکل تھا، بارہا ایسا ہوا کہ قریب پہنچ کر خود تقدیم سلام کی تو خدا م کو آنے کی خبر ہوئی۔سونے میں اسم رسالت ’’محمد‘‘علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام کا نقشہ ہوتا ۔غربا کی دل جوئی کا بڑا خیال تھا، مخلص غربا کی دعوت نہ رد کرتے نہ بعد میں کوئی حرف شکایت زبان پر لاتے ۔بلکہ خدا م کو حیرت ہوتی کہ کھانا کیسے تناول فرمایا تو ارشاد ہوتا ایسی خلوص کی دعوت ہوتو میں روزانہ قبول کرنے کو تیار ہوں ۔خط بنواتے وقت اپنی کنگھی اور اپنا شیشہ استعمال کرتے ۔قبلہ کی طرف نہ کبھی پائوں دراز کیا نہ منھ کرکے تھوکا ۔ان عادات کو دیکھ کر سراج الامہ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

(۱۲)حدیث کے مطابق تہمت کی جگہوں سے بھی پرہیز کرتے ۔مٹی کا تیل چوںکہ بد بودار ہوتا ہے، اس لیے مسجد میں جلانا ناجائز ہے ۔ایک بار حاجی کفایت اللہ صاحب نے لالٹین میں ارنڈی کا تیل بھر کر جلایا ۔فرمایا :حاجی صاحب اسے باہر کیجئے ۔ورنہ لوگوں کو بتاتے رہیے کہ اس میں مٹی کا تیل نہیں اَرنڈی کا تیل ہے ۔راہ چلتے لوگ تو یہی سمجھیں گے کہ دوسروں کو مسجد میں بدبودار تیل جلانے سے ممانعت کی جاتی ہے اور خود اپنی مسجد میں جلاتے ہیں ۔آخر حاجی صاحب نے باہر کردیا۔

کسی عالم نے بہ نیت اعتکاف مسجد میں قیام کیا اور پان وغیرہ بھی کھایا، اگالدان بھی رکھا، بعض لوگ جو ان کی نیت اعتکاف سے باخبر نہ تھے معترض ہوئے ۔اعلیٰ حضرت کے پاس سوال آیا ۔اعتراض کرنے والوں کو حکم مسئلہ اور مرتبۂ عالم بتاتے ہوئے تنبیہ کی۔ آخر میں یہ بھی لکھا:
’’علما کو چاہیے کہ اگر چہ خود نیت صحیحہ رکھتے ہو ں، عوام کے سامنے ایسے افعال جن سے ان کا خیال پریشان ہو نہ کریں کہ اس میں دو فتنے ہیں:۔جو معتقد نہیں ان کا معترض ہونا ، غیبت کی بلا میں پڑنا ،عالم کے فیض سے محروم رہنا ۔اور جو معتقد ہیں ان کا اس کے افعال کو دستاویز بنا کر بے علم نیت خودمرتکب ہونا ۔۔عالم فرقۂ ملامتیہ سے نہیں کہ عوام کو نفرت دلانے میں اس کا فائدہ ہو ۔مسند ہدایت پر ہے ،عوام کو اپنی طرف رغبت دلانے میں ان کا نفع ہے ۔ حدیث میں ہے ’’رأس العقل بعد الایمان باللہ التودد الی الناس‘‘۔دوسری حدیث میں ہے :’’ بشروا ولاتنفروا‘‘۔احیاناً ایسے افعال کی حاجت ہوتو اعلان کے ساتھ اپنی نیت اور مسئلہ ٔ شریعت عوام کو بتادے۔‘‘

(۱۳)حامد علی خاں نواب رامپور سے حضرت مہدی میاں کے مراسم تھے، ایک بار چاہا کہ اعلی حضرت سے ملاقات کرائوں۔ نواب کے ساتھ اسپیشل ٹرین سے سفر میں تھے۔ بریلی اسٹیشن سے مدار المہام کی معرفت ڈیڑھ ہزار کی نذر بھیجی اور پیغام کہلایا کہ میاں نے دیا ہے اور نواب کو ملاقات کا موقع دیا جائے ۔جوابا دروازہ کی چوکھٹ پر کھڑے کھڑے مدار المہام سے فرمایا: بعد سلام ان سے کہیے یہ الٹی نذر کیسی؟ مجھے چاہیے کہ میاں کی خدمت میں نذر پیش کروں نہ کہ میاں مجھے نذر دیں۔ اس نے کہاحضور! ڈیڑھ ہزارہیں۔ (جو آج کے سکے میں تقریبا ۷۵ ہزار کے برابر ہوںگے) فرمایا: جو بھی ہو واپس لے جائیے، فقیر کا مکان نہ اس قابل کہ کسی والی ریاست کو بلاسکوں اور نہ میں والیانِ ریاست سے واقف کہ خود جاسکوں ۔(حیات اعلیٰ حضرت)

(۱۴)ایک صاحب داخل سلسلہ ہوکر کسی وظیفہ کے خواہش مند ہوئے ۔ ان کی داڑھی حد شرع سے کم تھی ۔فرمایا: جب داڑھی شرع کے مطابق ہوجائے گی وظیفہ بتایا جائے گا ۔کچھ دنوں بعد پھر درخواست کی ۔فرمایا: کسی التماس کی ضرورت نہیں، جب داڑھی شرع کے مطابق ہوجائے گی خودوظیفہ بتادیا جائے گا یعنی نفل پر واجب مقدم ہے ۔
تصوف کی کتابوں میں بعض حضرات کے لیے دقائق وحقائق سے زیادہ تاثیر صوفیا وصلحا کے واقعات وحکایات میں ہوتی ہے، اسی لیے میں نے اس مضمون میں واقعات کو بھی دخل دیا ہے جس سے اپنے مدعا کے اثبات کے علاوہ یہ مقصود بھی ہے کہ آج کے مادی دور میں اہل تصوف امام احمد رضا قدس سرہ کے ان عملی نمونوں کو مشعل راہ بناسکیں تاہم ناقدین کی طرف سے اندیشہ ہے اس لیے اور شہادت پر اس حصہ کو ختم کرتا ہوں ۔
کسی کی زندگی معلوم کرنے کے لیے اس کے پڑوسیوں کا بیان خاص طور سے قابل غور ہوتا ہے ،پڑوسیوں سے کچھ نہ کچھ نزاع ہوہی جاتی ہے، اس لیے بعض ایسے بھی ملتے ہیں کہ اپنے دنیوی نقصان کے باعث اپنے نیک پڑوسیوں کی بھی بے جا شکایت کرتے ہیں مگر امام احمد رضا کے پڑوسی بھی ان کے معترف نظر آتے ہیں۔

(۱۵)محمد شاہ خاں عرف حاجی منتھن خاں ایک معزز زمیندار اور اعلی حضرت کے پڑوسی تھے۔ عمراعلیٰ حضرت سے زیادہ تھی۔ سید ایوب علی صاحب ،وسید قناعت علی صاحب نے ایک دن دیکھا کہ یہ اپنی زمینداری وسن رسید گی کے باوجود بڑے ادب سے آستانۂ رضویہ کی جاروب کشی کر رہے ہیں ۔سید قناعت علی صاحب کو گوارا نہ ہوا، آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے جھاڑو لینا چاہی کہ اپنے شیخ کے آستانۂ عالیہ کی جاروب کشی کروں (ان لوگوں کو ابھی معلوم نہ تھا کہ یہ بھی داخل ارادت ہیں)۔فرمایا: میں عمر میں حضور سے بڑا ہو ں ۔ان کا بچپن دیکھا ،جوانی دیکھی،او ر اب بڑھاپا دیکھ رہا ہوں ۔ہر حالت میں یکتاے زمانہ پایا تب ہاتھ میں ہاتھ دیا ۔بڑھاپے میں تو ہر کوئی بزرگ ہوجاتا ہے ۔انہیں بچپن میں ضرب المثل اور یکتاے روزگار دیکھا۔
یہاں آکر ملیں نہریں شریعت اور طریقت کی
ہے سینہ مجمع البحرین ایسے رہنما تم ہو
(سہ ماہی سنی دعوت اسلامی :جنوری تامارچ۲۰۰۶ء)

رضویات کے مطالعہ کے لئے کلک کریں

1 thought on “امام احمد رضا اور تقویٰ از حضرت علامہ محمد احمد مصباحی”

Leave a Reply

%d bloggers like this: