مخدوم بہار اور امام احمد رضا کے مابین اعتقادی ولسانی یکسانیت

مخدوم بہار اور امام احمد رضا کے مابین اعتقادی ولسانی یکسانیت

دعوت و ابلاغ کے بنیادی اسباب و وسائل اور عوامل و محرکات میں زبان وادب ایک اہم عنصر ہے.داعی دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مدعو اور مخاطب ک کے سامنےقابل فہم زبان استعمال کرے؛ یہی وجہ ہے کہ سارےانبیاو رسل علیہم الصلاۃ والسلام اپنی قوم کی زبان میں بھیجے گئے.
قرآن حکیم میں ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْؕ-فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
ترجمہ:اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے پھراللہ گمراہ کرتا ہےجسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے اور وہی عزت حکمت والا ہے(۱)
خاتم الانبیاء سید المرسلین ﷺ جس زمانے میں اور جہاں بھیجے گئےوہ دنیا کا وسط کہلاتا ہے، اس زمانے کی مرکزی زبان عربی تھی، اس لیے قرآن عربی زبان میں نازل ہوا، اور رحمت عالم ﷺ نے دعوت و ترسیل کا کام عربی زبان میں انجام دیا، دیگر انبیاء و رسل میں سے کسی کی زبان عبرانی تو کسی کی سریانی وغیرہ رہی۔
اس پر پوری امت متفق ہے کہ محمد الرسول ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں، اور یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے بھی ہے، اور ساتھ میں یہ بھی مسلم ہے کہ آپ ﷺ کا دین اور دعوت قیامت تک محتوی ہے، ظاہری حیات سے پردہ فرمانے کے بعد دعوت وتبلیغ اور رشد وہدایت کے حوالے سے اولیا،صوفیااور علماحضور ﷺ کے وارث و امین ہیں.یہ ان کامنصبی فریضہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی زبان میں قرآن وحدیث کی ترجمانی کرے، الحمد للہ اساطین امت اولیا صلحا نے دینا بھر میں اس دعوتی اسلوب کو اپنایا اور مدعو قوم کی زبانوں میں کتب، اورلٹریچرس وغیرہ تحریر کیے اور قرآن وحدیث کی تشریحات فرمائیں،اور آج مختلف زبانوں میں اسلامی معلومات و تفہیمات اور رشد ہدایت کا ذخیرہ موجود ہیں.
اسی منہج پر برصغیر ہندوپاک کی تاریخ عہد وسطیٰ انقلاب 1857 سے ماقبل کادور جوکہ فارسی زبان و ادب کے عروج کا دور تھایہاں تک کہ مغلیہ سلطنت میں بھارت کی سرکاری غیر سرکاری دفاتر اور محکمے کی زبان فارسی رہی ہے، حالات اور تقاضے یہ تھے کہ فارسی زبان میں دین کی آبیاری کی جائے، اسی ضرورت کے پیش نظر صوفیا نے اپنی دعوت وارشاد خلق خدا کی نفع رسائی دستگیری میں فارسی زبان کے ذریعے اہم کردار ادا کیا،خلق کودین اسلام قرآن فہمی حدیث دانی اس کے بیان ومعانی اور اسرار ورموز سے لوگوں کو آشنا کیا اور بڑی تعداد میں لوگ ان سے قریب ہوگئے، اور اس کے یہ جو آج ہم اسلام کی بہاریں دیکھ رہے ہیں،یہ سب اسی کے موثر نتائج اور صوفیا کی کاشت کی ہوئی زمین کی فصلیں ہیں،
اسلام کی خاطر نمایاں کارنامے انجام دینے والوں میں مخدوم المک حضرت سیدنا شرف الدین یحییٰ منیری قدس سرہ المتوفیٰ ۷۸۲ھ کی شخصیت ممتاز نظرآتی ہے،حضرت مخدوم بہار کی کل تصانیف کی تعداد ۲۵۰۰ سے زیادہ بتائی جاتی ہے، (۲)آپ عربی فارسی دیگر زبانوں پر کامل عبور اور دسترس رکھتے تھے لیکن آپ کی زیادہ تر کتابیں فارسی زبان میں ہیں، اور ان میں چند مشہور کتب ورسائل کے نام یہ ہیں:
مکتوبات صدی: توحید، شریعت وطریقت، روح کی حقیقت، خدمت خلق کی تعلیم، مکتوبات دوصدی: علم کی ضرورت علمی توجیہات، شرف آدم، صبر وشکر کی تعلیم، معوذتین، روح کا گھر میں آنا، خوف ورجا وغیرہ.
مکتوبات بست وہشت: علم مکاشفہ، رب تعالیٰ کی معیت، ترک دنیا کی تعلیم، علم قلبی کا درس، مایوسی کے بعد نزول رحمت، علم معرفت الہی کا ذریعہ، عشق کی تعریف، وغیرہ،
معدن المعانی: رب تعالیٰ کی وحدت، عددی نہیں، حقیقی ہے، فرقہ ثنویہ کا رد، مومن کی تکفیر میں عجلت نہیں، شرک خفی وجلی کی بحث، جوہر کی تعریف، ذات وصفات باری تعالیٰ، متشابہات کی بحث، وغیرہ
خوان پر نعمت: اقسام وحی اپنی ولایت کا علم، ﷲ تعالیٰ تک پہونچنے کا مطلب، ولدان وغلمان کا فرق، ارادت ومشیت، سعید وشقی کی بحث، حضور کا فضل مسلم ہے.
شرح آداب المریدین: درود وسلام کا بیان، کلام ﷲ غیر مخلوق ہے، انبیا ےکرام، سرکار دوعالم ﷺ کا فضل تمام انبیا پر اور خاتم النبیین کی بحث اور بالترتیب خلفائے راشدین عشرہ مبشرہ صحابہ عہد رسالت علم وعلما کے فضائل وغیرہ.
فوائد رکنی: طہارت ظاہر وباطن، مشیت ایزدی، مراتب اولیا، فقر و قناعت ، زہد و فقر وغیرہ.
ا ن کے علاوہ ملفوظات زاد راہ، مونس المریدین، فوائد المریدین، ارشاد السالکین، مغز المعانی، مخ المعانی، رسائل مکیہ، رسائل اجوبہ، رسائل وجودیہ،رسائل وصول، فوائد غیبی، سبیل الرشاد، اسباب النجاۃ، راحت القلوب، وغیرہ
یہ تمام کتب ورسائل عقائد ونظریات حقہ اصلاح احوال تزکیہ نفس اورعلوم اسلامیہ کی ترویج میں نمایاں مقام رکھتے ہیں. مخدوم بہار کی تصنیفات عقائد اہلسنت کے احیا،باطل نظریات کے حاملین متصوفین کے رد و ابطال ساتھ زبان وادب کے اعتبار سے فارسی ادب میں گراں قدر اضافہ ہے،
مخدوم بہار کی مندرجہ بالا کتابوں میں مکتوبات کو غیر معمولی شہرت ملی. اپنے تو اپنے غیروں نے بھی اعتراف کیا ہے. مولوی علی میاں ندوی نےدعوت وعزیمت میں لکھا:
”نظم میں حکیم سنائی فرید الدین عطار، مولانا روم نے بہت کچھ فرمایا ہے، لیکن نثر میں مخدوم الملک بہاری شیخ احمد شرف الدین یحییٰ منیری کے مکتوبات سے زیادہ موثر طاقتور اور بلیغ تحریر نظر سے نہیں گزری ہے“(۳)
یقیناً آپ کے مکتوبات کا مجموعہ متلاشیان حق کے لیے بہترین رہنما اور قلب و روح کے مریضوں کے لیے موثر علاج اور اکسیر اعظم ہے. آج بھی اہل حق علما اورصوفیا اس سے استفادہ کرتے اور متمتع ہوتے ہیں
مکتوبات کے علاوہ فارسی ملفوظات کا بھی جواب نہیں، علوم و فنون حکمت ودانش اور صلاح وفلاح، تزکیہ و تصفیہ کے باب میں مکتوبات کی طرح آپ کے ملفوظات کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے، معدن المعانی اسم با مسمیٰ ہے ۔ یہ صحیح معنوں میں علوم و فنون کا معدن و مخزن اور منبع ہے،علم قرآن و تفسیر ،علم حدیث، اصولِ حدیث، فقہ و اصول فقہ اور علم کلام و فلسفہ پر گفتگو کرتے ہوئے محققین کے سلطان ہونے کی حیثیت سے آپ متمکن نظر آتے ہیں،ضخامت کے اعتبار سے یہ کتاب ساڑھے چھ سو صفحات پر مشتمل ہے، اور اس میں پچاس ابواب ہیں اور ہر باب کے تحت علمی تحقیقی مباحث موجود ہیں،
مکتوبات و ملفوظات میں آپ کے بعد مجدد الف ثانی کے مکتوبات اور امام احمدرضا قدس سرہ کے ملفوظات اور دیگر بزرگ صوفیاء کی کاوشات بھی ہیں،لیکن ان سب میں آپ امام کی حیثیت رکھتے ہیں،
اب آئیے مخدوم بہار کی عظمت اور ان کی خدمات کی تفہیم کے لیے ہمارے عہد کے مناظر اعظم فقیہ النفس حضرت علامہ مفتی مطیع الرحمٰن مضطر رضوی صاحب کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں:
”آٹھویں صدی ہجری میں ہندوستان کے اندر صوفیاکے لبادے میں متصوفین اسلام کا چہرہ مسخ کرنے لگ گئےتھے، اور علما کے لباس میں اہل ظاہر دین سے اس کی روح نکالنے کے درپے تھے، تو اس وقت کے عالم بے بدل اور صوفی زماں حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری علیہ الرحمہ نے نہ تو خانقاہ ومدرسہ کے گنج خمولی میں پناہ لی، اور نہ متصوفین اور اہل ظاہر سے صلح کی بلکہ اپنے دربار فیض بار سب کی صلاح وفلاح کے لیے کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ اور عمل کی سپر لے کر میدان جہاد میں کود پڑے، اہل ظاہر کی کم علمی کو واضح اور متصوفین کی بد عملی کو اجاگر کرکے دونوں کو جادہ حق سے ہٹا ہوا بتایا، اور اپنے علم وعمل کے ذریعہ قوم کو سیدھی راہ دکھائی، اور صحیح منزل کی نشاندہی کی جیساکہ آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ اور ملفوظات و مکتوبات کا ورق ورق اس پر شاہد عدل ہے“(۴)
قارئین: مندرجہ بالا سطور مخدوم بہار کے اعتقاد ونظریات، اور دینی مذہبی لسانی خدمات آپ کے عظیم مقام ومرتبہ کے عرفان کے لیے کافی ہیں، اگر آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کرینگے تو سمجھ میں آئیگا کہ وہ ایک بڑے محدث محقق فقیہ صوفی اور انشاء پرداز ادیب تھے،آپ کی نگارشات صرف فارسی نہیں بلکہ عربی ادب میں کامل مہارت کا ثبوت فراہم کرتی ہیں،بایں طور کہ اسلام میں مآخذ کی حیثیت رکھنے والی قرآن وحدیث سے لیکر تفسیری کتب کی اصل زبان عربی ہے، اور آپ نے اس کے معانی و مفہوم کو فارسی زبان کے لباس میں لوگوں تک پہونچایا ہے، آپ کی انفرادی شان یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں علم حدیث بخاری ومسلم کی باضابطہ تدریس کے آغاز کا سہرا بھی آپ ہی کے سرجاتا ہے،اور آپ کی پوری زندگی احقاق حق ابطال باطل سے عبارت ہے،ایک طرف خدمت خلق اور دوسری جانب تعلق باللہ مخلوق سے ظاہری دوری کا یہ عالم کہ ایک طویل عرصہ تک بیہیا اور راج گیر کے جنگلوں میں جاکر عبادت وبندگی اور ریاضت ومجاہدہ کررہے ہیں، درخت کے پتوں پر اپنا گذارہ فرمارہے ہیں،
مخدوم بہار کے عقائد ونظریات قرآن وحدیث کے عین مطابق تھے، اور زندگی بھر اسی کے داعی و مبلغ رہے، باوجود اس کے چودہویں صدی کے توہین رسالت کےمرتکب اسماعیلی گروہ نے اپنے مقتدا مولانا اسماعیل دہلوی کی کتاب تفویۃ الایمان کو حق اور درست ثابت کرنے اور باطل نظریات کو جواز فراہم کرنے کے لیے مخدوم بہار کی ذات کو استعمال کرنے کی سعی کی،مخدوم پاک کو مشق ستم بنایا، تو امام احمد رضا سپربن کر کھڑے ہوگئے، اور انہوں نے دفاع کا مورچہ سنبھالا، مجدد اعظم امام احمدرضا فاضل بریلوی المتوفیٰ ۱۳۴۰ھ جوکہ مخدوم جہاں کے مداح اور ان کی علمی روحانی عظمتوں کے معترف ہیں، صرف معترف نہیں بلکہ یہ کہنا صد فی صد درست ہوگا کہ امام احمد رضا ان جیسےصوفیا کے صوفیانہ مشن اورداعیانہ تحریک کے وکیل و ترجمان تھے، بظاہر مخدوم بہار اور امام احمدرضا کے درمیان تقریباً چھ سو سال کا عرصہ حائل ہے، لیکن عقائد واعمال اور علم روحانیت کے باب میں یکسانیت اس قدر کہ بال برابر بھی فرق نہیں،مخدوم بہار اور امام احمد رضا لسانیات کے باب میں بھی ایک دوسرے کے شریک وسہیم رہے ہیں، انہوں نے ایک ہزار سے زائد کتب ورسائل میں عربی اردو کے علاوہ فارسی ادب کے بھی جواہر پارےچھوڑے ہیں، راقم کے اس دعویٰ کے ثبوت میں دونوں بزرگوں کے تصانیف دیکھےجاسکتے ہیں، خدمت دین خواہ کسی بھی زبان میں ہو اور وہ مخدوم بہار ہوں یا اعلیٰ حضرت یا پھر دوسرے تمام اولیا ومحدثین ان کی تعلیمات دراصل قرآن واحادیث کا عطر مجموعہ ہے، ان کی تعلیمات سے انحراف کہیں نا کہیں قرآن وحدیث سے انحراف ہے،
مخدوم بہار سے امام احمد رضا کی عقیدت ومحبت دیکھیں، اپنے شاگرد وخلیفہ ملک العلما حضرت مولانا سید ظفر الدین بہاری کو ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
”حضرت سیدنا مخدوم شرف الحق والدین بہاری منیری قدس سرہ کی طرف ایک ملفوظ بنام معدن المعانی بہار میں چھپا ہے یہاں اور لکھنو میں نہ ملا وہاں ملے تو ایک نسخہ مطلوب اور کسی معتمد جگہ اس کا کوئی قلمی نسخہ بھی معلوم کرنا ہے“(۵)
معدن المعانی کا ذکر اوپر گذر چکا،
دونوں کے درمیان کا روحانی رشتہ دیکھیں!مخدوم بہارسلسلہ فردوسیہ کے مشہور بزرگ حضرت شیخ نجیب الدین فردوسی علیہ الرحمہ سے مرید تھے، اور یہ سلسلہ مشہور سلسلہ سہروردیہ کی شاخ ہے، امام احمد رضا کو اس سلسلہ سے بھی خلافت واجازت حاصل تھی، مخدوم بہار کے سجادہ حضرت شاہ امین میاں فردوسی علیہ الرحمہ یہ امام احمد رضا کے معاصر بزرگ ہیں، ان کی سرپرستی میں بہار کی زمین سے آپ نے ندوہ وہابیہ دیابنہ کا رد وابطال فرمایا، عدم تقلید کے قائلین اور بعض نام نہاد مقلدین اسماعیلی تفویۃ الایمان کے توہین آمیز کفریہ عبارات کی تائید وصفائی میں مخدوم بہار کی جانب منسوب ایک متصوفانہ قول کو بطور دلیل پیش کرنے لگے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مخدوم بہار جنہیں مسلمانوں کی اکثریت اپنا مقتدا و پیشوا مانتی ہے، انہوں نے بھی اسی نوعیت کی بات کی ہے جو آج تفویۃ الایمان میں مرقوم ہے، ایسے پرفتن ماحول میں امام احمد رضا نے ایک تحقیقی اور فقہی رسالہ بنام ”حجب العوار عن مخدوم بہار“ تحریر فرماکر امت مسلمہ کو حقائق سے اشکارا کیا اور اپنے گمراہ کن عقائد کے اثبات و مبنی برحق پر ان کی جانب منسوب قول کا سہارا لینے والوں دندان شکن جواب دیا،
یہ رسالہ دراصل ایک استفتا کے جواب میں ہے،
داناپور پٹنہ سے ۸شعبان ۱۳۳۹ھ کو حنیف خان نام سے ایک شخص نے سوال کیا”بخدمت فیض درجت جناب اعلیٰ حضرت مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب مدظلہ گذارش یہ ہیکہ اسماعیل نے چمار کے لفظ سے مثال دی، یہاں کے غیر مقلدین کہتے ہیں، کہ مخدوم صاحب نے مینگنی سے مثال دی ہے، اس کا کیا جواب ہے حضور کا کوئی رسالہ یافتوی اس بارے میں ہے یا نہیں“
امام احمد رضا چاہتے تو مختصر وضاحت کے ساتھ جواب دیکر یا پھر داخل شطحیات بتاکر اپنا دامن چھڑا لیتے، لیکن نہیں انہوں نے اپنے ممدوح جو مخدوم الملک مخدوم بہار سلطان المحققین جیسی ارفع شان کے ساتھ دنیا جہاں میں متعارف تھے، اور ان کی علمی روحانی شخصیت مسلم تھی، ایسی مقتدر ہستی کے جناب میں ایسی غلط بات منسوب کرنا جس سے امت گمراہی اور ذلت کی دبیز چادر تلے دب کر اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ایک بڑی سازش کا حصہ تھا، اور بروقت علمی تحقیقی جواب دینا ضروری تھا، مخدوم پاک سے محبت ان کی عظمت وعقیدت اور روحانیت تقاضا کررہی تھی،کوئی اٹھے اور جواب لاجواب سے پوری قوم کو گمراہ ہونے سے بچائے، لہذا امام احمد رضا نے ایسا ہی کیا، بتایا جاتا ہے کہ مخدوم بہار کی واحد شخصیت ہے، جن کےنام آپ نے یہ ایک مستقل رسالہ تحریر فرمایا،
رسالہ کو پڑھینگے تو معلوم ہوگا کہ مخدوم بہار پر لگائے گیے بے بنیاد سنگین الزام کے پرخچے اڑا دیے گیے ہیں، اور باطل ضال مضل طبقہ پر امام قہر الٰہی کی بجلی بن کر گرج رہے ہیں، اہل حق کےلیے مخدوم بہار کا فیضان بن کر برس رہے ہیں، اور علما ومحققین پر تحقیق تنقید و تنقیح اور استدلال کے دروازے کھلتے نظرآرہے ہیں، عقلی ونقلی دلائل اور منطقی گرفت کہ روشنی میں باطل نظریات کو جواز فراہم کرنے والوں کی قلعی کھلتی نظر آرہی ہے، ان کی مستتر منصوبہ بند ارادی مذموم خیالات کو جس انداز میں آپ نے طشت از بام فرمایا ہے یقیناً یہ آپ ہی کا حق ہے، اس کو پڑھنے والا آپ کی مجددانہ مجتہدانہ محققانہ شان کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا، اصل ونقل لاحق اور غیر لاحق کو پرکھنے کے جو اصول آپ نے بیان کیے ہیں، نہایت عمدہ اور معلوماتی ہیں،
مخدوم بہار سے منسوب الزام کا جواب دیتے ہوئے آپ نے پہلی دلیل دی ہے،
”کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام سے منسوب ہونا، اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں،بہت سے رسالے اکابر چشت کے نام منسوب ہیں، جس کا اصلا ثبوت نہیں“
دلیل ثانی: میں آپ فرماتے ہیں کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں ہے بہت اکابر کی کتابوں میں الحاقات ہیں تفصیل کے لیے عارف بالله امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ کی ”کتاب الیواقیت والجواہر“ کی جانب اشارہ فرمایا درمختار کے حوالے سے حضرت شیخ اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے کلام میں درمختار کے حوالے سے الحاقات کے ثابت ہونے پر دلیل دیے، مخدوم بہار کی ایک فارسی کتاب عقائد ترجمہ عمدۃ الکلام سے ایک ملحقہ عبارت کی نشاندہی کی ہے،
عبارت ہے ”قریش اعلیٰ جد مصطفیٰ بود و او دو پسر داشت یکے را نام ہاشم بود و دوم را نام تیم بود پیغمبر از نسل ہاشم است و ابوبکر از نسل تیم است“
اعلیٰ حضرت امام احمدرضا مخدوم بہار کے تقدس کو سامنے رکھتے ہوئے فرماتے ہیں، کوئی جاہل سے جاہل ایسی بات کہہ سکتا ہے کہ ہاشم کے باپ کا نام قریش تھا، اور ان کے دو بیٹے تھے ایک ہاشم دوسرا تیم، ہم ہرگز ایسی نسبت بھی مخدوم صاحب کی طرف نہیں مان سکتے ضرور کسی جاہل کا الحاق ہے،
دلیل ثالث: میں امام احمدرضا نے کسی مسلمان کی جانب کسی کبیرہ کی نسبت کرنا کتنا بڑا جرم ہے اور اس سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو واضح فرمایا ہے، اور دلائل میں احیاء العلوم، فتاویٰ حدیثیہ، مقدمہ ابن الصلاح، امام نووی کی تقریب، فتح القدیر، منح الروض الازھر شرح فقہ اکبر، مجمع الازھر، کے حوالے سے اپنی دلیل کو مزین فرمایا،
دلیل رابع: میں امام نے مخدوم پاک سے منسوب قول کے غیر الحاقی ہونے کی صورت میں اس عبارت کی شرعی اور نفیس توضیح فرمائی ہے،
فرماتے ہیں، ”حقیقت امر یہ ہے کہ مخلوق کی دوقسم ہے، اول وہ کہ عظمت دینی رکھتے ہیں، جن کے سرو وسرور مطلق حضور سید المرسلین ﷺ پھر باقی حضرات انبیاء و ملائکہ اولیاء و اہلبیت و صحابہ پھر دیگر علماء وصلحاء واتقیاء پھر سلاطین اسلام پھر عام مومنین گویا کہ تمام ذوات قدسیہ صحائف دینیہ صفات جمیلہ اعمال صالحہ اخلاق فاضلہ اور اماکن مقدسہ۔۔۔۔۔ کو شامل فرمالیا،اور دوسری قسم کی وضاحت میں وہ کہ عظمت دینی سے اصلا بہرہ نہیں رکھتے، مثلاً کفار و مشرکین مرتدین پھر باقی ضالین نیز صفات رذیلہ اعمال خبیثہ اخلاق ازیلہ اور اماکن نجسہ “
دونوں قسموں کو قرآن وحدیث کتب فقہ سے مبرہن کیا، اور فرمایا قسم اول کی تعظیم تعظیم الٰہی سے جدا نہیں بلکہ بعینہ اسی کی تعظیم تو محل غیر میں غیر ﷲ اور خلق سے وہی مراد ہوتا ہے، جسے مولیٰ عزوجل سے علاقہ قرب نہیں علاقہ قرب والے تو جانب خالق میں ہیں نہ کہ جانب غیر میں،
سبحان ﷲ کیا نفیس تحقیق ہے امام احمد رضا کی جسے بھی انشراح صدر حاصل کرنا ہو وہ ضرور پڑھے،
آگے لکھتے ہیں:
”صوفی کہ غیر خدا کی تحقیر کرے اور اسے اونٹ کی مینگنی سے حقیر تر جانے قطعاً اسی کی تحقیر کرتا ہے، جس کی تعظیم تعظیم الٰہی نہیں جسے مولیٰ عزوجل سے علاقہ نہیں ورنہ جانب خالق کی تحقیر کرے تو خود رب عزوجل کی تحقیر کریگا یہ صوفی کا کام ہوگا یا ابلیس لعین کا ملعون ملعون ملعون ہے وہ کہ اس سے یہ سمجھے کہ مصحف شریف و انبیائے کرام کو مینگنی سے حقیر تر بتاتا ہے“
اب امام احمدرضا کا اپنے ممدوح سے قلبی وابستگی اور مثبت فکر دیکھیں، فرماتے ہیں:
”حضرت مخدوم صاحب تو معاذﷲ اس معنی ملعون کے وہم سے بھی پاک ہیں،ہاں یہی کافر اورملعون ومرتد و شیطان وابلیس ہیں جو ان کے کلام (اگر ان کا کلام ہے)ایسے گندے کفر پر ڈھالتے ہیں، وماکفر سلیمٰن ولٰکنّ الشیطٰن کفروا سلیمان نے تو کفر نہ کیا ہاں یہ شیطان ہی کافر ہوئے، دلیل کے اخیر میں فرماتے ہیں،ہاں مخدوم صاحب نے اگر کہا تو دنیا اور دنیا کی چیزوں کو کہا، جن کو ﷲ سے علاقہ نہیں، بیشک وہ مینگنی سے حقیر تر ہیں“
دلیل خامس: میں امام اہلسنت نے اپنے منطقی استدلال اور اعلیٰ ذہانت کا جو منظر پیش کیا ہے وہ بڑا دلچسپ ہے، فرماتے ہیں، اگر حضرت مخدوم نے ایسا فرمایا تو کیا انہوں نے تمام انبیا اولیا بالخصوص حضور سید الانبیاء علیہ و علیہم الصلوۃ والثنا کو مینگنی سے مثال دی، والعیاذ باللٰ٘ہ تو ایسی صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ یہ قول :
”تمہارے نزدیک حق ہے یا باطل اگر باطل ہے تو باطل سے سند لانے والا عیار ومکار اور اس سے توہین شان رسالت کا ہلکا پن چاہنے والا کافر بے دین فی النار ہے یا نہیں اور اگر کہیں کہ ہاں وہ حق ہے اور حضرات انبیا و سید الانبیا ﷺ معاذﷲ اس ناپاک مثال کے لائق ہیں تو پرده کھل گیا“
اپنے دعویٰ اور دلیل کی روشنی میں کبھی وہابیہ غور کریں تو وہ تینوں صورتوں میں مجرم ٹھرینگے، اور ان میں کی ہر ایک صورت ان کے حق میں زہر قاتل ہے،
اس پر بھی آپ نے دلائل دیے، اور اخیر میں صاحب حجب العوار حضرت مخدوم بہار اپنے ممدوح کے متعلق امام احمد رضا دوٹوک انداز میں رقم طراز ہیں:
”ہر گز مخدوم صاحب نے ایسی ملعون بات نہ فرمائی، نہ وہ یا کوئی مسلمان ایسا کہہ سکتا ہے، جن کے غلامان غلام کے غلامان غلام کی کفش برداری سے حضرت مخدوم صاحب حضرت مخدوم صاحب ہوئے، اگر انہیں کو ایسا بتاتے توخود کہاں رہتے،اور اپنے آپ اس سے کتنے لاکھ درجے بدتر گندی گھناونی ذلیل ناپاک مثال کے قابل ہوتے نہ کہ سند لانے کے لائق، مگر حاشاللہ !بات وہی ہے کہ وماکفر سلیمان لکن الشیاطین کفروا، سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے(یعنی) حضرت مخدوم صاحب نے تو کفر نہ کیا شیاطین ہی کفر کررہے ہیں“
امام احمد رضا نے مخدوم بہار کے بدخواہوں کو حجب العوار میں اپنی انفرادی شان تحقیق و تفہیم سے جو مسکت جواب دیے ہیں، یقیناً دفاع کے ساتھ ساتھ تحقیق کے نیے زاویے بھی وا ہوتے نظرآرہے ہیں،
اور بڑی بات یہ ہے کہ حجب العوار میں آپ نے مخالفین کو صرف مثبت دلائل نہیں دیے ہیں، بلکہ ان کی کتاب تفویۃ الایمان سے درجنوں کفریہ توہین آمیز عبارات کی بھی نشاندہی فرمائی، اور ان کے منفی رذیل فکر کا پردہ چاک فرمایا ہے، اب ایسے عقائد ونظریات کا بوجھ اٹھانے والوں سےکبھی نہ ہی تو جواب بن پائیگا اور نا ہی ان دونوں بزرگوں کے اعتقادات سے متعلق لوگوں کو فریب دے سکتے ہیں، بس ایک ہی صورت ہے کہ حق قبول کریں،تفویۃ الایمانی عقائد سے توبہ و رجوع کریں، نہیں تو شامت یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو ماتم کریں ﷲ جل علا سب کو ہدایت دے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

مفتی صابر رضا محب القادری نعیمی کشنگنجوی
القلم فاونڈیشن پٹنہ
حال مقام امین منزل سورجاپور اتردیناجپور بنگال

مآخذ و مراجع کتب
(۱) سورۃ ابراہیم آیۃ ۱۴
(۲) تذکرہ مخدوم بہار
(۳) تاریخ دعوت و عزیمت
(۴) سہ ماہی رفاقت ۲۰۰۴
(۵) مکتوبات امام احمد رضا محدث بریلوی
(۶) حجب العوار عن مخدوم بہار

Leave a Reply

%d bloggers like this: