زکاۃ نہ ادا کیا ہو اور وہ سفرحج کا ارادہ کیا ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

زکاۃ نہ ادا کیا ہو اور وہ سفرحج کا ارادہ کیا ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
حضرت اگر کوئ شخص مالک نصاب ہو اور بیس سالوں سے زکاۃ نہ ادا کیا ہو اور وہ سفرحج کا ارادہ کیا ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
حضرت جواب دیکر شکریا کا موقع عنایت فرمائیں
سائل_آپ کا شاگرد محمد اکرم رضا واحدی
بتاریخ _13 ربیع الغوث ھ1441

باسمہ تعالیٰ و تقدس

الجواب بعون الملک المجیب العلیم الوہاب

مسئولہ صورت میں شخص مذکور پر لازم ہے کہ پہلے وہ بیس 20/سالوں کا حساب لگا کے زکوٰۃ ادا کرے کہ اس پر پہلے یہی لازم ہے ورنہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے سبب وہ سخت گنہگار اور مستحق وعید و عقاب اور گرفتارِ عذابِ خدائے قہار و جبار ہوگا ۔
پھر ادائیگئ زکوٰۃ کے بعداگر بچے ہوئے مال اس کے پاس اتنے ہیں کہ وہ بآسانی سفر حج کرسکتاہے اور آمد و رفت کے اخراجات پر قادر ہے تو وہ صاحب استطاعت ہے اس پر حج فرض ہے ورنہ اگر بعدِ ادائیگئی اس کے پاس اتنے مال نہیں بچتے کہ وہ سفر حج کے آمد و رفت کے لئے کفایت کریں تو اس پر حج فرض نہیں ۔

اگر وہ قبلِ ادائیگی زکوٰۃ حج کو گیا اور زکوٰۃ میں مشغول روپیوں سے حج کیا تو یہ قطعاً جائز نہیں اور حج بھی مردود ہے مقبول نہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :” حرام مال کا حج میں صرف کرنا حرام ہے اور وہ حج قابلِ قبول نہ ہوگا ۔اگرچہ فرض ساقط ہوجائیگا۔حدیث شریف میں ارشاد ہوا جو مال حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب وہ لبیک کہتاہے فرشتہ جواب دیتا ہے ” لا لبیک ولا سعدیک و حجک مردود علیک حتی ما فی یدیک،، یعنی نہ تیری حاضری قبول نہ تیری خدمت قبول اور تیرا حج تیرے منہ پر مردود۔ جب تک تو یہ حرام مال جو تیرے ہاتھ میں ہے واپس نہ دے ۔

(فتاویٰ رضویہ، الجزءالرابع 4، ص685)

اور حضرتِ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتےہیں :” قال فی البحر و یجتھد فی تحصیل نفقة حلال فانہ لا یقبل بالنفقة الحرام کما ورد فی الحدیث مع انہ یسقط الفرض عنہ معھا ولا تنافی بین سقوطہ و عدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ۔ (رد المحتار، ج2، ص152)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ ✍ محمد امیر حسن امجدی رضوی خادم الافتا والتدریس الجامعة الصابریہ پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی

Leave a Reply

%d bloggers like this: